اسلام آباد میں سکیورٹی اور انتظامی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ریڈ زون میں واقع دفاتر کے لیے عارضی طور پر ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کر دی ہے۔
کابینہ ڈویژن پاکستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیر 20 اپریل کو ریڈ زون میں موجود تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور دیگر سرکاری دفاتر کے ملازمین گھروں سے اپنے فرائض انجام دیں گے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ عملہ گھر سے کام کرے گا، تاہم تمام افسران اور متعلقہ اسٹاف کو اپنے اسٹیشنز پر موجود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں فوری طور پر دفتر طلب کیا جا سکے اور سرکاری امور میں کسی قسم کا خلل نہ آئے۔
حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد موجودہ حالات میں انتظامی تسلسل کو برقرار رکھنا اور ساتھ ہی سکیورٹی اور سہولت کے پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرکاری کاموں کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے ایک علیحدہ بیان میں شہریوں کو آگاہ کیا ہے کہ 20 اپریل 2026 سے تاحکم ثانی کچھ پولیس خدمت مراکز کی خدمات جزوی طور پر متاثر رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے حکومت کا بڑا اور ہنگامی فیصلہ
بیان کے مطابق پولیس خدمت مرکز ایف-6، گلبرگ گرین اور کیس کیڈ ڈپلومیٹک انکلیو میں لائسنسنگ سے متعلق سہولیات معمول کے مطابق جاری رہیں گی، تاہم فیض آباد ٹریفک ہیڈکوارٹر سمیت بعض دیگر مراکز میں لائسنسنگ سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کی جائیں گی۔
اسلام آباد پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ لائسنسنگ اور دیگر خدمات کے لیے جاری کردہ ایڈوائزری پر عمل کریں اور تازہ معلومات کے لیے سرکاری چینلز، واٹس ایپ چینل، سوشل میڈیا پیجز اور آئی ٹی پی FM 92.4 سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات شہریوں کو سہولت فراہم کرنے اور انتظامی امور کو بغیر رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں، جبکہ صورتحال کے مطابق مزید فیصلے بھی کیے جا سکتے ہیں۔





