آئی جی خیبر پختونخوا کا اسٹینڈنگ آرڈر جاری، پولیس کے لیے نیا یونیفارم لازمی قرار

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا نے پولیس فورس میں ڈسپلن اور یکسانیت لانے کے لیے اسٹینڈنگ آرڈر جاری کر دیا ہےجس کے تحت تمام اہلکاروں کے لیے مقررہ یونیفارم پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نئے احکامات کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع بشمول ضم شدہ قبائلی اضلاع میں اب “اولیو گرین شرٹ اور خاکی پینٹ” ہی معیاری وردی تصور ہوگی۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی ڈیوٹی کے دوران شلوار قمیض، واسکٹ اور چپل پہننے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور 150 سالہ پرانا روایتی لباس ختم کر دیا گیا ہے۔

یونیفارم کی تفصیلات کے مطابق کانسٹیبل سے انسپکٹر تک تمام اہلکار اولیو گرین شرٹ، خاکی پینٹ، سیاہ بوٹ اور بیلٹ معہ نام پلیٹ پہننے کے پابند ہوں گے۔ اسی طرح گیزٹڈ افسران بھی مقررہ رنگ کی شرٹ، پینٹ اور رینک بیجز استعمال کریں گے۔

آئی جی پی نے تمام ڈی پی اوز کو ہدایت کی ہے کہ وہ پولیس لائنز کے ذریعے اہلکاروں کو نئے یونیفارم کی فراہمی یقینی بنائیں۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ احکامات کے اجراء کے اگلے روز سے تمام نفری وردی میں ڈیوٹی پر حاضر ہوگی۔

حکم نامے میں خبردار کیا گیا ہے کہ وردی کی خلاف ورزی کو محکمانہ بددیانتی تصور کیا جائے گا۔ ایسے اہلکاروں کے خلاف خیبر پختونخوا پولیس رولز 1975 کے تحت سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

محکمہ پولیس کے مطابق ان ترامیم کا مقصد فورس کو ایک جدید، معیاری اور پروفیشنل شکل دینا ہے۔ تمام ایس ایچ اوز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ماتحت عملے کو ان احکامات سے آگاہ کریں اور ان پر سختی سے عمل درآمد کروائیں۔

Scroll to Top