خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس کے نام پر بازاروں کی بندش، تاجروں کا شدید ردعمل سامنے آ گیا

خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس کے نام پر بازاروں کی بندش، تاجروں کا شدید ردعمل سامنے آ گیا

خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کے ایک منفرد اور تاریخی اجلاس کے موقع پر کرکٹ اسٹیڈیم کے اطراف قائم تمام دکانیں اور بازار بند کر دیے گئے، جس پر مقامی تاجروں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

بدھ کے روز طلب کیا گیا اجلاس سہ پہر تین بجے شروع ہونا تھا، تاہم کارروائی تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر سے شام پانچ بجے شروع ہوئی۔ اس دوران سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت اسٹیڈیم کے گردونواح میں موجود مارکیٹیں بند کروا دی گئیں اور علاقے کو مکمل طور پر محدود کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق سکیورٹی اداروں، بیوروکریسی اور اراکین اسمبلی کی گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے بھی اسٹیڈیم کے اطراف جگہ مختص کی گئی، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں۔

مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ بازاروں کی بندش سے انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے حکومتی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوامی مسائل کا واقعی ادراک ہوتا تو کاروبار بند نہ کیے جاتے۔

تاجروں نے اسمبلی اجلاس کو “غیر ضروری اقدام” قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا عام شہریوں کو کوئی براہ راست فائدہ نہیں بلکہ یہ عوامی وسائل کے ضیاع کے مترادف ہے۔

واضح رہے کہ کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس صوبائی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے، تاہم اس کے انتظامات اور اثرات پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

Scroll to Top