وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وفاقی معاشی پالیسیوں پر ردعمل دیتے ہوئے ملک کی معاشی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت قرضوں کے بوجھ تلے دب چکی ہے اور صرف آٹھ ماہ میں قومی قرضہ 79.9 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ان کے مطابق سود کی ادائیگیوں نے قومی وسائل کو شدید متاثر کیا ہے اور قرضوں پر سود کی شرح دفاعی اور ترقیاتی بجٹ کی مجموعی حد سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پاکستان کی معاشی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، جبکہ تیل اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ زراعت اور صنعت دونوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح جمود کا شکار ہے۔ ان کے مطابق اسٹیٹ بینک کے لیے مانیٹری پالیسی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے اور معاشی سمت کا تعین مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ مہنگائی کی نئی لہر اور توانائی بحران نے عوام کی قوت خرید کو مزید کمزور کر دیا ہے، جبکہ وفاقی معاشی ناکامیوں کا بوجھ صوبائی معیشتوں پر منتقل ہو رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ وفاقی مالیاتی کمزوریوں کا براہ راست اثر صوبائی ترقیاتی منصوبوں پر بھی پڑے گا، اس لیے وفاق کو اپنی معاشی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔





