پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ میں 68 سالہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کی طویل تعیناتی نے صوبائی حکومت کا پول کھول دیا

پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ میں 68 سالہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کی طویل تعیناتی نے صوبائی حکومت کا پول کھول دیا

پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ میں 10 سال سے پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی، انتظامی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے

خیبر پختونخوا کے سرکاری تعلیمی ادارے پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں ایک اہم انتظامی معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر ایک پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی گزشتہ ایک دہائی سے جاری ہے، حالانکہ ادارہ کئی سال قبل مکمل ہو چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 68 سالہ ناصر خان 2016 میں عارضی بنیادوں پر پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں اسی عہدے پر ریگولر کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ادارے میں رییکٹر کی تقرری کے باوجود پروجیکٹ ڈائریکٹر کا عہدہ برقرار رکھا گیا اور انہیں مبینہ طور پر اعلیٰ تنخواہ پر خدمات جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔

معلومات کے مطابق 2021 میں محکمۂ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے ایک سمری تیار کی گئی تھی جس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کی برطرفی کی سفارش کی گئی، جسے وزیراعلیٰ اور گورنر نے منظور بھی کیا، تاہم اس پر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا

مزید یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ادارے میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کے لیے باقاعدہ منظور شدہ اسامی موجود نہیں تھی، اس کے باوجود انہیں ادارے میں ایڈجسٹ کیا گیا اور بعد ازاں مبینہ طور پر یونیورسٹی سروس میں شامل بھی کیا گیا، جس پر انتظامی قواعد و ضوابط کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ادارے کے مکمل ہونے اور رییکٹر کی تعیناتی کے بعد پروجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے کی کوئی عملی ضرورت باقی نہیں رہتی، تاہم اس عہدے کا برقرار رہنا اور بعد ازاں اس کی مبینہ ریگولرائزیشن شفافیت کے اصولوں پر سوالیہ نشان ہے۔

دوسری جانب پروجیکٹ ڈائریکٹر ناصر خان کا مؤقف ہے کہ وہ اب بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور ادارے کے مختلف منصوبے بشمول میڈیکل، ڈینٹسٹری اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے لیے پی سی-ون زیر غور ہیں۔ ان کے مطابق 27 افسران کو منصوبہ جاتی یونٹ سے یونیورسٹی کے باقاعدہ پے رول پر منتقل کیا گیا تھا اور یہ عمل قواعد کے مطابق تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبے کی دیگر جامعات میں بھی اسی نوعیت کے انتظامات موجود ہیں اور یہ معاملہ ادارے کی قانونی خودمختاری کے تحت آتا ہے۔

اس حوالے سے رییکٹر پروفیسر محمد مجاہد سے رابطہ کیا گیا، تاہم تحریری جواب موصول نہیں ہوا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کا مؤقف ہی ادارے کی سرکاری پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ اس سے سرکاری تعلیمی اداروں میں تقرریوں، فنڈنگ اور انتظامی ڈھانچے کی شفافیت پر اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔

Scroll to Top