طالبان رجیم کی باجوڑ میں شہری آبادی پر گولہ باری سے اب تک خواتین اوربچوں سمیت9 افراد شہید، 12 افراد زخمی

ضلع باجوڑ کے سرحدی علاقوں ماموند اور سلارزئی میں افغان طالبان رجیم کی جانب سے سرحد پار سے کی جانے والی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں 9 بے گناہ شہری شہید اور 12 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق فروری، مارچ اور اپریل 2026 کے دوران پیش آنے والے ان مختلف افسوسناک واقعات میں افغان طالبان نے لغڑی ماموند اور تارییہ شاہ سلارزئی کے علاقوں میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ اس جارحیت کے باعث نہ صرف قیمتی جانی نقصان ہوا بلکہ آٹھ رہائشی مکانات بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

شہداء کی تفصیلات کے مطابق فروری میں برہ لغڑی ماموند میں دو خواتین بابو بی بی اور درویش شہید ہوئیںجبکہ مارچ میں تارییہ شاہ سلارزئی میں ایک ہی خاندان کے چار معصوم بچے ریاض، فیاض، معاض اور ساجد افغان گولہ باری کی نذر ہوئے۔

اسی طرح 15 اپریل کو برہ لغڑی میں دوبارہ فائرنگ کے نتیجے میں سعیدہ بی بی، معاض اور عزمہ بی بی شہید ہو گئیں۔

زخمی ہونے والے 12 افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جنہیں سیکیورٹی فورسز اورضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر ہنگامی طبی امداد فراہم کی اور ابتدائی علاج کے بعد تشویشناک حالت کے پیش نظر بہتر معالجے کے لیے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔

انتظامیہ باجوڑ نے متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف کی فراہمی اور تباہ شدہ مکانات کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر باجوڑ کے مطابق انتظامیہ کی بروقت کارروائی نے صورتحال کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور بہت جلد شہداء کے ورثاء، زخمیوں اور جن کے مکانات تباہ ہوئے ہیں ان کو مالی معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔

دوسری جانب مقامی آبادی نے طالبان رجیم کی اس جارحیت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ 16 اپریل 2026 کو علاقائی مشران اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ افغان طالبان اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں کو فوری طور پر روکیں تاکہ سرحد کے دونوں اطراف مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

سیکیورٹی فورسز نے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔

Scroll to Top