وفاق نے گیس فراہم نہ کی تو عوام کے ساتھ مل کر سڑکوں پر نکلیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں گیس کی اضافی پیداوار کے باوجود مقامی، کاروباری اور گھریلو صارفین کو فراہمی بند ہے، جس کے باعث صنعتیں بند ہونے کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کا مقصد صوبے کے حقوق پر مبینہ ڈاکے اور وفاق کی جانب سے جاری ناانصافی کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل کو طے کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہونے کے باوجود شدید لوڈشیڈنگ کا شکار ہے، جس سے کمرشل سرگرمیاں اور سی این جی انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

سہیل آفریدی کے مطابق آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت قدرتی وسائل پر پہلا حق متعلقہ صوبے کا ہے، تاہم اس آئینی شق پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ مقامی ضرورت 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود صوبے میں گیس لوڈشیڈنگ جاری ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبہ اپنی ضرورت سے زائد تقریباً 250 ایم ایم سی ایف ڈی گیس وفاق اور دیگر صوبوں کو فراہم کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود مقامی صارفین کو فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، جسے انہوں نے امتیازی سلوک قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا حکومت نے کلائمیٹ ایکشن بورڈ ترمیمی بل کی منظوری دے دی

انہوں نے مزید کہا کہ این ایف سی شیئر، بقایاجات، گندم، گیس اور بجلی سمیت مختلف شعبوں میں خیبرپختونخوا کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق پنجاب کی جانب سے گندم کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالی گئیں جبکہ وفاق وسائل کی منصفانہ تقسیم میں ناکام رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا گیس، بجلی، معدنیات اور جنگلات جیسے شعبوں میں ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر گیس کے مسئلے کو دو دن کے اندر حل نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت تمام سیاسی جماعتوں، عوام، تاجروں، کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر وفاق کے خلاف بھرپور احتجاج کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اگر وفاق نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو صوبائی حکومت مزید سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگی۔

Scroll to Top