پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے کلائمیٹ ایکشن بورڈ (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ہنگامی صورتحال، بحالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 52واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزرا، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور مختلف محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ماحولیاتی تحفظ، اقلیتی فلاح، آبپاشی، صحت، تعلیم، بلدیات اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کلائمیٹ ایکشن بورڈ (ترمیمی) بل 2026 کا مقصد خیبرپختونخوا کلائمیٹ کونسل کے ذریعے کلائمیٹ ایکشن بورڈ کی مؤثر نگرانی اور رہنمائی کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کو گیس کی فراہمی سے انکار، وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ نئے فنڈ کے قیام سے ہنگامی صورتحال اور ماحولیاتی آفات کے بعد متاثرہ علاقوں میں بروقت بحالی اور تعمیر نو ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے وزیراعلیٰ ڈیجیٹل انکلوژن پروگرام برائے اقلیتی طلبہ کے لیے 11 کروڑ 25 لاکھ روپے کی خصوصی گرانٹ کی منظوری دی ہے، جبکہ دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتوں کے انڈومنٹ فنڈ کو 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 30 کروڑ روپے کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
کابینہ اجلاس میں مردان، نوشہرہ اور ہری پور میں مختلف واقعات کے متاثرین کے لیے امدادی پیکج کی منظوری بھی دی گئی، جس کے تحت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 25 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 10 لاکھ روپے فی کس دیے جائیں گے۔
مزید بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 16 کروڑ 81 لاکھ روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری دی گئی، جبکہ بہائی برادری کے لیے دو میرج رجسٹرار مقرر کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے لیے چھ نئی آسامیوں، ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے مالیاتی قواعد 2026 اور ٹیکسٹ بک بورڈ کے سروس رولز میں ترمیم کی بھی منظوری دی گئی۔
اسی طرح انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ سائنسز (فاؤنٹین ہاؤس) پشاور کو ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا ذیلی ادارہ قرار دینے کی منظوری دی گئی، جبکہ خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی میں ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی بھی منظور کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت سے ایک لاکھ روپے حاصل کرنے کا آسان اور مکمل طریقہ جانیں
کابینہ نے مالاکنڈ ڈویژن میں ٹمپریٹ رائس ریسرچ اسٹیشن کے قیام کے لیے اراضی کی منتقلی اور سوات میں میاں گل عبدالحق جہانزیب کڈنی اسپتال کو جدید کڈنی ٹرانسپلانٹ سینٹر میں تبدیل کرنے کے لیے 18 کروڑ روپے اضافی گرانٹ کی منظوری بھی دی۔
اجلاس میں ڈیجیٹل اصلاحات کے تحت پیدائش، وفات، شادی، طلاق اور دیگر اہم ریکارڈ کی آن لائن رجسٹریشن اور سرٹیفکیٹ فراہمی کی بھی منظوری دی گئی۔
غذائی تحفظ کے حوالے سے کابینہ نے سرکاری شعبے سے 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی، جس کی قیمت 3 ہزار 500 روپے فی 40 کلو مقرر کی گئی ہے۔ اس منصوبے پر مجموعی طور پر 19 ارب 68 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔





