خیبر پختونخوا اسمبلی نے مالی سال 27-2026 کا صوبائی بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مجوزہ ترامیم کثرت رائے سے منظور کر لی ہیں۔ بجٹ اجلاس کے دوران صوبائی وزیر قانون و خزانہ آفتاب عالم اور مختلف محکموں کے وزراء نے مجموعی طور پر 66 مطالبات زر کی منظوری کے لیے الگ الگ تحاریک ایوان میں پیش کیں، جنہیں اکثریتی رائے سے منظور کر لیا گیا۔ ایوان نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے اسمبلی کے اخراجات کے لیے 62 کروڑ 79 لاکھ روپے مختص کرنے کی بھی منظوری دی۔ منظور شدہ بجٹ کے تحت مختلف محکموں کے لیے خطیر رقوم مختص کی گئی ہیں جن میں سب سے زیادہ فنڈز صحت اور امن و امان کے شعبوں کو دیے گئے ہیں۔ نئے بجٹ کے مطابق محکمہ صحت کے لیے 2 کھرب 62 ارب 62 کروڑ روپے کی خطیر رقم منظور کی گئی ہے جبکہ پولیس کے لیے ایک کھرب 38 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے 52 ارب 46 کروڑ 10 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے جو صوبے میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ دیگر محکموں کے فنڈز کی تفصیلات کے مطابق محکمہ خزانہ کے لیے 14 ارب 73 کروڑ روپے، محکمہ آبپاشی کے لیے 11 ارب 27 کروڑ روپے، محکمہ مواصلات کے لیے 7 ارب 77 کروڑ روپے اور محکمہ داخلہ کے لیے 4 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی رقم منظور کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ معدنی ترقی کے لیے 2 ارب 27 کروڑ روپے اور محکمہ بہبودِ آبادی کے لیے ایک ارب 24 کروڑ روپے کے فنڈز بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دے دی

پی ٹی آئی اراکین سیکرٹری معدنیات کے خلاف میدان میں آ گئے، ہٹانے کا مطالبہ کر دیا

خیبرپختونخوا میں بیوروکریسی اور منتخب نمائندوں کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے سیکرٹری معدنیات کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین نے سیکرٹری معدنیات پر توہین آمیز رویے اور مسلسل تاخیری حربے استعمال کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ سرکاری امور میں غیر ضروری تاخیر اور غیر مناسب رویے سے عوامی مسائل متاثر ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں تمام اراکین اسمبلی سیکرٹری کے خلاف متحد نظر آئے اور انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اجلاس میں بعض اراکین نے شکایت کی کہ کئی ماہ سے دفتری امور میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے اور ان کے کام التوا کا شکار ہیں۔

اس موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا کہ اب سیکرٹری کا تبادلہ نہیں بلکہ انہیں عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اراکین کے مطالبے پر فوری کارروائی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے گا اور مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں موجود تمام اراکین نے وزیر اعلیٰ سے سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بیوروکریسی کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

Scroll to Top