سرکاری ملازمین کے لئے خوشخبری، الاؤنسز میں بڑا اضافہ

سرکاری ملازمین کے لئے خوشخبری، الاؤنسز میں بڑا اضافہ

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے عدالت کے ملازمین کے الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری دے دی ہےجس کے تحت ملازمین کے جوڈیشل اور یوٹیلیٹی الاؤنس میں موجودہ بنیادی تنخواہ کے 50 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس کی منظوری کے بعد جاری ہونے والے آفس آرڈر کے مطابق ان نئے الاؤنسز کا اطلاق فوری طور پر تمام ملازمین پر ہوگا تاہم یہ غیر معمولی چھٹی کے دوران قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔

ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمن کے مطابق یہ اخراجات مالی سال 26-2025 کے مختص بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔

دوسری جانب، سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کی جانب سے ملازمین کی برطرفی اور غیر حاضری سے متعلق متضاد بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے وزارتِ تجارت کے سابق ملازم ارسلان احمد کی برطرفی کے خلاف کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے مقدمہ نئے سرے سے فیصلے کے لیے ٹربیونل کو واپس بھیج دیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں اہم قانونی سوال اٹھایا کہ اگر کسی ملازم کو برطرف ہی کرنا ہے تو اس کی غیر حاضری کو چھٹی میں بدلنے کی کیا منطق ہے؟ سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ برطرفی کے ساتھ ہی درخواست گزار کی غیر حاضری کے دورانیے کو بغیر تنخواہ کی چھٹی میں تبدیل کرنا قانونی طور پر برطرفی کے جواز کو ختم کر دیتا ہے۔

فیصلے میں وفاقی حکومت کے متضاد مؤقف پر حیرانی کا اظہار کیا گیا کہ پہلے اسے ایک ڈپٹی سیکریٹری کی غلطی قرار دیا گیا لیکن بعد میں تسلیم کیا گیا کہ یہ تبدیلی سیکریٹری کامرس کی منظوری سے ہوئی تھی۔

Scroll to Top