سوات جرگے کی کوششوں سے مرحوم شاعر عطااللہ جان اور حاجی فضل خالق کے خاندانوں میں صلح ہوگئی

سوات میں شہید حاجی فضل خالق اور شہید شاعر و وکیل عطااللہ جان ایڈووکیٹ کے خاندانوں کے درمیان دیرینہ تنازع جرگے کی کوششوں سے پرامن طور پر ختم ہو گیا۔

قومی ترون جرگہ بابوزئی سوات کی کاوشوں سے دونوں فریقین کے درمیان مفاہمت طے پائی، جسے مقامی سطح پر امن و استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، علاقہ مکینوں اور عمائدین نے اس موقع پر کہا کہ باہمی برداشت، افہام و تفہیم اور جرگہ نظام ہی دیرپا امن کی ضمانت ہے۔

اس سلسلے میں وڈودیہ ہال سیدو شریف میں ایک باوقار صلح جرگہ منعقد ہوا جس میں دونوں خاندانوں کے درمیان باضابطہ صلح نامے پر دستخط کیے گئے، اس موقع پر دونوں فریقین نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر آئندہ بھائی چارے اور دوستی کے ساتھ رہنے کا عہد کیا۔

جرگے میں وفاقی وزیر امیر مقام، اراکین صوبائی اسمبلی حاجی عبدالمحکیم خان اور محمد رشاد خان، سابق سینیٹر راحت حسین، فضل حکیم، اختر خان، امین خان سمیت متعدد سیاسی، سماجی شخصیات اور معززین علاقہ نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: گرینڈ قبائلی جرگہ، حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر، وزیراعلیٰ اور قبائلی مشران نے اہم اعلانات کر دیے

وفاقی وزیر امیر مقام نے اس پیش رفت کو خطے میں امن کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے جرگے کے کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمنیوں کے خاتمے کا بہترین راستہ مفاہمت اور مکالمہ ہے اور ایسے اقدامات معاشرے میں امن، بھائی چارے اور برداشت کو فروغ دیتے ہیں۔

Scroll to Top