معروف مصنف شوکت تھانوی کی آج 63ویں برسی منائی جا رہی ہے

محمد عمر المعروف شوکت تھانوی 1904ء کو اترپردیش کے ضلع متُھرا میں پیدا ہوئے، صحافت سے دلچسپی کی بنا پر ہندوستان کے کئی اخباروں سے وابستہ رہے جن میں ہمدم، ہمت اور ہفت روزہ سرپنچ قابل ذکر ہیں، سرپنچ نے ہی شوکت تھانوی کو مزاح نگار کی حیثیت سے متعارف کروایا، ان کے مضامین سودیشی ریل، سودیشی ڈاک وغیرہ بڑی دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد شوکت تھانوی کراچی آگئے اورمختلف اخبارات میں نام کمایا، ریڈیو پاکستان سے ان کا مستقل فیچر قاضی جی بہت مقبول ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : محسن نقوی کا اگلے سال پی ایس ایل میں نئے وینیوز شامل کرنے کا اعلان

شوکت تھانوی نے ناول نگاری، ڈراما، افسانہ نگاری اور شاعری میں بھی طبع آزمائی کی، ان کا مجموعہ کلام گہرستان نے خاصی مقبولیت حاصل کی، شوکت تھانوی نے 60 کتابیں تصنیف کیں جن میں بارِخاطر، بہروپیا، دنیائے تبسم، مسکراہٹیں، بیگم، بادشاہ اور خبطی قابل ذکر ہیں۔

حکومت پاکستان نے شوکت تھانوی کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز سے، نوازا شوکت تھانوی 4 مئی 1963ء کو خالقِ حقیقی سے جاملے اور قبرستان میانی صاحب میں آسودہ خاک ہیں۔

Scroll to Top