عمان سے پاکستانی و غیر ملکی ورکرز کیلئے اہم خبر آگئی

عمان میں مقیم غیر ملکی ورکرز کے لیے وطن واپسی اور ملک سے روانگی کے قوانین سے متعلق اہم وضاحت سامنے آئی ہے، جس کے تحت آجر اور ملازم دونوں کی ذمہ داریوں کو واضح اور قابلِ عمل بنایا گیا ہے۔

بیورو آف امیگریشن اور اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق نئے ضوابط کا مقصد لیبر مارکیٹ میں نظم و ضبط قائم رکھنا اور غیر ملکی ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

آرٹیکل 14 کے تحت ملازمت کا معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں آجر پر لازم ہوگا کہ وہ ملازم کو اپنے خرچ پر زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر وطن واپس بھیجے یا کسی باہمی طور پر طے شدہ مقام تک اس کی روانگی کا انتظام کرے۔

اسی آرٹیکل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آجر ملازم کی درخواست پر فوری کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کرے گا، جس میں واجبات کی عدم موجودگی کی تصدیق ہوگی۔

اگر کوئی ملازم رضاکارانہ طور پر واپس جانے سے انکار کرے تو حکام وزارت کے خرچ پر اس کی واپسی کا انتظام کر سکتے ہیں، جبکہ بعد میں یہ اخراجات آجر سے وصول کیے جا سکیں گے۔

ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ زیرِ سماعت قانونی کیسز کی صورت میں ملازم کو ملک میں رہنے کی اجازت ہوگی۔

آرٹیکل 15 کے تحت وزیرِ محنت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ مخصوص حالات میں غیر ملکی ورکرز کی واپسی کو ریگولیٹ کرے، جن میں طبی نااہلی، جعلی اسناد، یا بغیر معقول وجہ ملازمت چھوڑنے جیسے معاملات شامل ہیں۔

اسی طرح آرٹیکل 62 کے مطابق آجر پر لازم ہوگا کہ وہ ملازم کو اینڈ آف سروس سرٹیفکیٹ بغیر کسی فیس کے فراہم کرے، جس میں ملازمت کی مدت، تنخواہ اور دیگر تفصیلات درج ہوں گی۔ آجر کو ملازم کے تمام ذاتی دستاویزات بھی واپس کرنا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں :   خیبر پختونخوا: حاضری کا نیا نظام لانے کا فیصلہ، ملازمین کیلئے اہم خبر

قانون میں غیر قانونی ملازمت کے خلاف سخت سزائیں بھی شامل ہیں۔ آرٹیکل 143 کے مطابق غیر مجاز ملازمت کرنے والے ورکرز کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے اور دوبارہ داخلے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

اسی طرح آرٹیکل 149 کے تحت وزارت کو انتظامی طور پر ملک بدری اور دیگر پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

مجموعی طور پر یہ نئے ضوابط آجر اور ملازم دونوں کے حقوق و فرائض کو واضح کرتے ہیں تاکہ شفافیت، قانونی عمل اور لیبر مارکیٹ میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔

Scroll to Top