ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے معرکۂ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال پہلے افواجِ پاکستان نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا تھا۔
میڈیا بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آرنے بتایاکہ معرکۂ حق نے قومی دفاع میں اہم سنگِ میل کی حیثیت اختیار کی ہے، جس نے افواجِ پاکستان کی تیاری، عزم اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید اجاگر کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افواجِ پاکستان قوم کی توقعات پر پوری اتری ہیں اور ہر آزمائش میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بغیر کسی ثبوت کے یہ بیانیہ تشکیل دیا گیا کہ پاکستان دہشتگردی کراتا ہے، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارت واضح کرے کہ کس دہشتگرد کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق “معرکۂ حق” کو ہندوستان کا بچہ بچہ جانتا ہے، اور اس دوران افواجِ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو مؤثر جواب دے کر اپنی صلاحیت ثابت کی۔
انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے ہر محاذ پر بہترین حکمتِ عملی کے ساتھ دفاع کیا اور قومی سلامتی کو یقینی بنایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت کے بعض رہنما سیاست سے زیادہ جنگجویانہ طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ خطے میں امن کے لیے ذمہ دارانہ رویے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں استحکام کے لیے سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے، اور پاکستان ہمیشہ امن و استحکام کا حامی رہا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ پاکستان اور اس کی قیادت خطے میں امن کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے اور خطے میں استحکام کو ہمیشہ ترجیح دی گئی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پہلگام آپریشن کے محض 15 منٹ کے اندر ایف آئی آر کا اندراج کئی سوالات کو جنم دیتا ہے اور اس عمل پر سنجیدہ نوعیت کے تحفظات موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ حقائق کو تسلیم کرے اور سچ بولنے کی عادت اپنائے، کیونکہ غیر مصدقہ دعوے خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور تمام معاملات کو ذمہ دارانہ اور شفاف انداز میں حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے بعض عناصر بری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں اور خطے میں ہونے والی سرگرمیوں پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
میڈیا بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر وقت تیار ہے، اگر کسی نے آزمانا ہے تو “موسٹ ویلکم” ہے، تاہم خطے میں امن و استحکام پاکستان کی پہلی ترجیح ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق بھارت کی فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بھارتی ایما کے شواہد موجود ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حالیہ عرصے میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو سیکیورٹی اداروں کی مؤثر کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب بھارت کو جواب دیا گیا تو اس نے نام نہاد افغان وزیر خارجہ کو بلایا، جو خطے کی صورتحال میں سیاسی مداخلت کی ایک مثال ہے۔
ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔
ترجمان پاک فوج کے بعد ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف نے پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بحری بیڑا تعینات کرنے کی کوشش کی، تاہم پاک بحریہ کی مکمل تیاری اور مؤثر حکمت عملی کے باعث دشمن کسی قسم کی جارحیت کی ہمت نہ کر سکا۔
میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام ساحلی تنصیبات محفوظ رہیں اور بندرگاہیں معمول کے مطابق فعال رہیں، جو پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے درمیان بہترین ہم آہنگی پاکستان کی کامیابی کی ضامن بنی، جبکہ تینوں افواج نے قومی دفاع کے لیے بھرپور تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔
ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کے مطابق بھارت کو اپنی بحری طاقت پر بہت ناز تھا اور بھارتی بحریہ ہر طرح سے جدید سازوسامان سے لیس تھی، لیکن اس کے باوجود وہ کسی قسم کی عملی جارحیت کی جرات نہ کر سکی۔
انہوں نے واضح کیا کہ امن ہو یا جنگ، پاکستان اپنی بحری سرحدوں اور قومی مفادات کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی بحریہ کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ پاکستانی سمندری حدود کا رخ کرے، کیونکہ پاک بحریہ ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی۔
ترجمان پاک فوج اور ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کے بعدڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف نے پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معرکۂ حق کے دوران پاک فضائیہ نے دشمن کے متعدد جنگی طیارے مار گرائے اور بھارتی فضائیہ کو بھرپور اور مؤثر جواب دیا۔
میڈیا بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ پاک فضائیہ نے ایک ایس یو-30، ایک مگ-29 اور ایک میراج طیارہ تباہ کیا، جبکہ بھارت کے 4 رافیل طیارے بھی مار گرائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر معرکۂ حق کے دوران بھارت کے 8 جنگی طیارے تباہ کیے گئے، جو پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور جدید جنگی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔
ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف کے مطابق پاک فضائیہ دشمن کی ہر سرگرمی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تمام صورتحال کو مانیٹر کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے پہلی بار ملٹی ڈومین آپریشنز کو مربوط انداز میں استعمال کیا، جس سے جنگی حکمتِ عملی میں نمایاں برتری حاصل ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ دشمن ہمارے بارڈر کے قریب آنے کی جرات نہیں کر سکا کیونکہ سرحدوں پر مضبوط دفاعی حصار قائم تھا۔
ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ کی مؤثر حکمتِ عملی کے باعث بھارت کو اپنی فورسز کو دوبارہ منظم اور ری الائن کرنا پڑا۔
ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھاکہ ہمیں سعودی عرب کی سیکیورٹی اور سلامتی عزیز ہے،حرمین شریفین کی سلامتی سعودی عرب کی سلامتی سے جڑی ہے،سعودی عرب کو خطرہ ہمارے لئے بھی خطرہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ افغان طالبان کہتے ہیں ان کے پاس گھڑیاں ہیں تو ہمارے پاس گھڑیال ہے،ہمارے پاس ہر قسم کا وقت ہے ،افغان طالبان ہمارے بچے لگتے ہیں۔





