محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بڑے پیمانے پر جعلی اساتذہ کی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق یہ بھرتیاں 2012 میں عوامی نیشنل پارٹی کے دورِ حکومت کے آخری سال میں کی گئی تھیں جن کی اب باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
جعلی بھرتیوں کا یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی سینیارٹی لسٹ تیار کی جا رہی تھی۔
دستاویزات کے مطابق پبلک سروس کمیشن کی اصل فہرست میں مبینہ ردو بدل کر کے اصل امیدواروں کی جگہ دوسرے افراد کو تعینات کیا گیا تھا۔
تعلیم نے ان تمام 436 اساتذہ کی پروموشن فوری طور پر روک دی ہےجبکہ معاملے کی مکمل چھان بین اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے ایک 4 رکنی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
حیران کن طور پر اصل امیدوار گزشتہ 14 سال سے اپنے تقرر ناموں کے انتظار میں بیٹھے تھےجنہیں اب علم ہوا ہے کہ ان کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کئی حقدار امیدوار آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب سابق وزیر تعلیم اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سردار حسین بابک نے اس معاملے پر اپنا موقف دیتے ہوئے پختون ڈیجیٹل کو بتایا کہ مجھے اس حوالے سے کچھ نہیں پتہ لیکن اگر یہ بے ضابطگیاں ہوئی ہے تواس معاملے کی انکوائری کرنی چاہیئے اور زمہ داروں کو قرار واقعی سزا دے دینی چاہیئے۔





