محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں مبینہ جعلی بھرتیوں کا معاملہ،سابق وزیر تعلیم سردار حسین بابک نے بڑا مطالبہ کردیا

محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں مبینہ جعلی بھرتیوں کا معاملہ،سابق وزیر تعلیم سردار حسین بابک کا ردعمل

سابق صوبائی وزیر تعلیم اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سردار حسین بابک نے محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا میں ہونے والی 436 اساتذہ کی مبینہ جعلی بھرتیوں کے معاملےپرشفاف انکوائری کا مطالبہ کر دیا ہے۔

پختون ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر ان کے دورِ حکومت کے آخری سال میں کوئی انتظامی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور ملوث افراد کو سخت سزا ملنی چاہیے۔

واضح رہے محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے 2012 میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونے والے سینکڑوں اساتذہ کے خلاف باقاعدہ انکوائری شروع کی ہے۔

انکشاف ہوا ہے کہ اس وقت کی اصل سفارشاتی فہرست میں مبینہ طور پر ردو بدل کر کے اصل امیدواروں کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا اور ان کی جگہ غیر قانونی طور پر دوسرے افراد کو تعینات کر دیا گیا تھا۔

جعلی بھرتیوں کا یہ اسکینڈل اس وقت بے نقاب ہوا جب محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی ترقیوں کے لیے سینیارٹی لسٹ مرتب کی جا رہی تھی۔

دستاویزات کی پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ کئی ایسے افراد برسوں سے ملازمت کر رہے ہیں جن کا نام اصل میرٹ لسٹ میں شامل ہی نہیں تھا جس کے بعد محکمہ تعلیم نے ایک اعلیٰ سطح کی چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر کے تمام مشکوک اساتذہ کی پروموشن روک دی ہے۔

اس معاملے پر موجودہ صوبائی وزیر تعلیم اور پبلک سروس کمیشن کے حکام نے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی ہے۔

Scroll to Top