وفاقی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، جس کے بعد ملک میں سماجی امدادی نظام کے مستقبل سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
وفاقی وزیر کھیل داس کوہستانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بیشتر اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، اس لیے امدادی رقوم کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومتوں کو سونپی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض صوبوں کی جانب سے بھی یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبائی سطح پر چلایا جائے تاکہ مقامی سطح پر مستحق افراد تک بہتر انداز میں رسائی ممکن ہو سکے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت اس حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل اتحادی جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں سے مشاورت کرے گی تاکہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
داس کوہستانی نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، بلکہ پروگرام کے انتظامی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا منصوبہ سمجھا جاتا ہے، جس کے تحت لاکھوں مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔





