ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو خطے کے دیگر ممالک تک پھیلنے نہیں دینا چاہیے، کیونکہ اس سے پورے خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق استنبول میں عراق کی کرد علاقائی حکومت کے رہنما سے ملاقات کے دوران صدر اردوان نے امریکا اور ایران کے تنازع کے تناظر میں عراق پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ کسی بھی ایسے اقدام کے حق میں نہیں ہے جس سے یہ کشیدگی دیگر ممالک تک پھیلے اور خطے میں عدم استحکام پیدا ہو۔
صدر اردوان نے اس موقع پر زور دیا کہ عراق میں استحکام پورے خطے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق عراق میں مرکزی حکومت کی جلد تشکیل نہ صرف ملک کے اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط کرے گی بلکہ خطے میں بھی مثبت اثرات مرتب کرے گی۔
اس سے قبل جمعہ کو استنبول میں منعقدہ دفاعی نمائش سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ ترکیہ نے دفاع، ہوا بازی اور خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے ابھرتے ہوئے ممالک میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ان کے مطابق ترک دفاعی مصنوعات کی طلب نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : معرکہ حق میں دشمن کی جارحیت کا مؤثر جواب، پاکستان نے دنیا کو دفاعی پیغام دیا، صدر مملکت
انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت کے پیچھے کئی دہائیوں کی محنت، ایک لاکھ سے زائد محب وطن افراد کی مسلسل کوششیں، عوام کی حمایت اور ریاستی عزم شامل ہے۔
صدر اردوان نے بتایا کہ نمائش کے دوران 182 معاہدے طے پائے جن کی مجموعی مالیت 8 ارب ڈالر رہی، جبکہ ان میں سے 6 ارب ڈالر برآمدی معاہدوں پر مشتمل تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں ترکیہ کی دفاعی برآمدات میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور اس دوران 2.871 ارب ڈالر کی برآمدات حاصل کی گئیں۔





