اسلام آباد: معرکہ حق کے دوران پیش آنے والے اہم ترین واقعات میں بھارتی فضائی دفاعی نظام ایس 400 کی تباہی کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی، جس کے حوالے سے پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے ادھم پور ایئربیس پر موجود جدید روسی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم کو کامیاب کارروائی میں نشانہ بنایا۔
معرکہ حق میں بھارت کو جہاں فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں پر بھرپور اعتماد تھا، وہیں روسی ساختہ ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی ناقابلِ شکست دفاعی ڈھال تصور کیا جا رہا تھا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایس 400 بیک وقت متعدد کروز اور بیلسٹک میزائلوں کو ٹریک اور نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث بھارت کو یقین تھا کہ پاکستانی میزائل اس کے اہم دفاعی تنصیبات تک نہیں پہنچ سکیں گے۔
تاہم پاکستانی کارروائی کے بعد دعویٰ سامنے آیا کہ دیگر اہداف کے ساتھ ادھم پور میں موجود ایس 400 سسٹم کا اہم حصہ بھی تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد بھارت کو شدید تنقید اور سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارتی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کی ادھم پور ایئربیس پر ایس 400 میزائل لانچر کے سامنے تصاویر جاری کیں اور بھارتی میڈیا نے اسے پاکستان کے دعوؤں کی تردید قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : معرکہ حق میں فتح کی سالگرہ، جی ایچ کیو میں آج پر وقار تقریب ہوگی، فیلڈ مارشل مہمان خصوصی ہوں گے
دفاعی ذرائع کے مطابق ایس 400 سسٹم صرف میزائل لانچر تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس میں کمانڈ سنٹر، ریڈار یونٹ اور میزائل لانچر سمیت کئی اہم حصے شامل ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ادھم پور میں ایس 400 کے کمانڈ سنٹر کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد بھارت کو نیا کمانڈ سنٹر منگوانا پڑا۔
اس حوالے سے بھارتی میڈیا میں بھی ایک خبر زیرِ بحث رہی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ بہار سے تعلق رکھنے والا رام بابو سنگھ، جو ایس 400 سسٹم سے منسلک آپریٹر بتایا گیا، پاکستانی حملے میں ہلاک ہوا۔
بعد ازاں بھارتی حکام نے اس کے کردار سے متعلق مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی فوج سے تعلق رکھتا تھا اور ایس 400 آپریشن سے اس کا تعلق نہیں تھا۔
معرکہ حق کے بعد اس معاملے پر عالمی دفاعی حلقوں میں بھی بحث جاری رہی، جبکہ پاکستان نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے 9 مئی کو بھارت کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔





