اسلام آباد: آپریشن بنیان مرصوص معرکۂ حق کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر اسلام آباد کے پاکستان مونومنٹ پر خصوصی اور پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت، غیر ملکی سفیروں، شہداء کے لواحقین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت مسلح افواج کے سربراہان، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور وفاقی وزرا بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے سفیر اور اعلیٰ عسکری و سول حکام بھی موجود تھے۔
تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا جبکہ تینوں مسلح افواج کے چاق و چو

بند دستوں نے شاندار مارچ پاسٹ کیا اور سلامی پیش کی۔ وزیر اعظم کی اپیل پر شہداء کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔

تقریب کے دوران معرکۂ حق میں پاک افواج کی کامیابیوں، قومی یکجہتی اور دفاع وطن کے عزم کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ فضا میں قومی نغموں کی گونج اور جذباتی مناظر نے شرکاء کو متاثر کیا جبکہ بچوں کی جانب سے پیش کیے گئے ملی نغمے پر کئی شرکاء آبدیدہ ہوگئے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے خطاب میں کہا کہ معرکۂ حق کی عظیم کامیابی پر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں اور وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

اس موقع پر ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو نے پاک فضائیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ نے دشمن کے فضائی برتری کے دعوؤں کو ناکام بنایا۔ انہوں نے نیول چیف اور پاک بحریہ کے کردار کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے تاریخی خطاب میں کہا کہ معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں اللہ تعالیٰ کی مدد سے پاکستان کو بے مثال کامیابی حاصل ہوئی۔ ان کے مطابق یہ معرکہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کن جنگ تھی جس میں پاکستان نے اپنی خودمختاری اور قومی وقار کا بھرپور دفاع کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے اور آئندہ کسی بھی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ سخت اور مؤثر ہوگا۔ فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
انہوں نے پاک افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خصوصاً خیبرپختونخوا و بلوچستان کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا حساب لیا جائے گا۔

تقریب میں اسٹریٹجک دفاعی معاہدوں، علاقائی امن، خارجہ پالیسی اور پاکستان کے عالمی کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ فیلڈ مارشل نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور پاکستان کی ثالثی کے کردار کو اہم سفارتی کامیابی قرار دیا۔

اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کل بھی ناقابلِ تسخیر تھا اور آئندہ بھی ناقابلِ تسخیر رہے گا، اور حق کی فتح ہمیشہ یقینی ہے۔





