اسلام آباد: شیخ ادریس کی شہادت کی خبر پر سابق نگران وزیرِاعظم انوار الحق کاکڑ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ امت مسلمہ کیلئے بڑا نقصان ہے اور اس کے اثرات انتہائی گہرے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس واقعے میں ملوث عناصر کو ان کے انجام تک پہنچائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف سخت موقف ناگزیر ہے۔ سابق نگران وزیرِاعظم کے مطابق اس واقعے نے لوگوں کی آنکھیں کھول دی ہیں اور اس سے متعلق احساسِ ذمہ داری مزید بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں امن کے قیام کیلئے تمام صوبوں میں مربوط کوششیں ضروری ہیں اور اس مقصد کیلئے ہر سطح پر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے۔
سابق وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ وہ یہاں سیاسی گفتگو کیلئے نہیں آئے بلکہ سوگوار خاندان سے اظہارِ ہمدردی کیلئے موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایسے مواقع پر سیاسی بات چیت مناسب نہیں ہوتی اور ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں واضح ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ، پاکستان مونومنٹ میں پروقار تقریب، افواج کی سلامی اور فیلڈ مارشل کی شہداء کے اہلخانہ سے ملاقاتوں کی تصاویر وائرل
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور امن کے معاملات پر سخت اور واضح مؤقف اپنانا ضروری ہے۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے متعلق بھی اظہار خیال کیا گیا کہ جب انہیں اس واقعے کی اطلاع ملی تو وہ بھی انتہائی افسردہ ہوئے اور اسے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔
سابق نگران وزیرِاعظم کے مطابق حالیہ صورتحال اور بعض واقعات نے خطے میں نئی سوچ اور تبدیلی کو جنم دیا ہے، اور آنے والے وقت میں مسلمان ممالک کو مزید باوقار اور مستحکم راستے پر آگے بڑھنا ہوگا۔





