نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے ریگولیٹری نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بڑے فیصلوں کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اب بیرونِ ملک سے طبی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کے لیے روانگی سے قبل ایم ڈی کیٹ پاس کرنا اور پی ایم اینڈ ڈی سی میں رجسٹریشن کروانا لازمی ہوگا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں طبی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی انسپکشن کے طریقہ کار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قواعد کی خلاف ورزی یا کسی بھی قسم کی بے ضابطگی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد مستقبل میں پاکستانی ڈاکٹروں کی ڈگریوں کی عالمی سطح پر منظوری اور لائسنسنگ کے حوالے سے پیدا ہونے والی ممکنہ دشواریوں کا خاتمہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایچ ای سی کا ڈگری تصدیق کا نظام مکمل آن لائن اور پیپر لیس کرنے کا اعلان
غیر ملکی گریجویٹس کے حوالے سے نئے ضوابط کے مطابق طلبہ صرف انہی غیر ملکی اداروں میں داخلہ لینے کے اہل ہوں گے جو پی ایم اینڈ ڈی سی کی منظور شدہ فہرست میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ ورلڈ فیڈریشن فار میڈیکل ایجوکیشن یا ورلڈ ڈائریکٹری آف میڈیکل اسکولز سے تسلیم شدہ ہوں۔ طبی تعلیم کا دورانیہ کم از کم پانچ سال ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے جس میں 6200 تدریسی گھنٹے اور 80 فیصد حاضری کی شرط لازمی ہوگی۔
مزید برآں جن ممالک میں ذریعہ تعلیم انگریزی نہیں ہے وہاں طلبہ کو اپنی پیشہ ورانہ تعلیم شروع کرنے سے قبل پانچ ماہ تک مقامی زبان سیکھنا ہوگی تاکہ وہ مریضوں کے ساتھ بہتر رابطے اور تعلیمی فہم کو یقینی بنا سکیں۔
حکومتی کمیٹی نے طلبہ کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بیرونِ ملک روانگی سے قبل اپنے مکمل کوائف بشمول رابطہ نمبر اور رہائشی پتہ فراہم کریں اور اپنی تعلیم کے دوران کسی بھی تعطل سے بچنے کے لیے ملٹی پل انٹری ویزا حاصل کریں۔ ڈگری مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں رجسٹریشن اور پریکٹس کے لیے تمام طلبہ کو پی ایم اینڈ ڈی سی کے نیشنل رجسٹریشن امتحان میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔
کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان تمام سخت اقدامات کا بنیادی مقصد پاکستانی میڈیکل طلبہ کے پیشہ ورانہ مستقبل کا تحفظ اور ملک میں صحت کے شعبے کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق محفوظ بنانا ہے۔





