لکی مروت میں ’’ریاست کے اندر ریاست‘‘ سرکاری نظام پر سوالات اُٹھ گئے،صورتحال سنگین

لکی مروت میں ’’ریاست کے اندر ریاست‘‘ صوبائی حکومت پر سوالات اُٹھ گئے،صورتحال سنگین

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے ایک سرکاری محکمے میں قائم ریاست کے اندر ریاست کاراج چلنے لگا ، جہاں سنا ہے کہ وہ صوبے کے اعلیٰ افسران کی بھی نہیں سنتے ، کس معطل اہلکار کو بحال کروانا ہے ، محکمے میں کِس کا تبادلہ کہاں کروانا ہے ، ہم سے رابطہ کریں ۔

تنخواہ اور فائدے ریاست سے لیکن مرضی اپنی چلے گی ، لکی مروت میں پولیس امن کمیٹی کے نام پر پولیس کی وردیوں اور سرکاری تنخواہوں پر پلنے والا شر پسند مافیا سرگرم ہے ۔

اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں امن کمیٹی کے نام پر ایک ایسا مافیا سرگرم ہے جو پولیس کی وردیاں پہن کر امن کے بجائے علاقے میں خوف، دباؤ اور اپنی الگ طاقت قائم کرنے میں مصروف ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ گروہ ایک منظم مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو امن کمیٹی کی آڑ میں بھتہ خوری، پوسٹنگز میں مداخلت، ناجائز اختیارات کے استعمال اور عوام کو ہراساں کرنے میں ملوث ہے۔

اس پورے نیٹ ورک کی پشت پناہی پی ٹی ایم اور چند سیاسی عناصر کی جانب سے کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ گروہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی امن کمیٹی ہے تو پھر علاقے میں امن و امان کے بجائے شر پسندی اور غنڈہ گردی کیوں کر رہے ہیں؟ انہی عناصر نے کچھ ہفتے پہلے لکی مروت سے گزرنے والی مین شاہراہ کو بھی گھنٹوں بند رکھا ہے ، اس نام نہاد امن کمیٹی کو بنانے والے چند برخاست پولیس اہلکاروں نے اپنے ذاتی مفادات، ناجائز مطالبات اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کیلئے یہ کام کیا۔

امن کے دعوے کرنے والا یہ مافیا دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر صرف نعرے بازی کرتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ لکی مروت اور بنوں میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اگر واقعی یہ امن کمیٹی ہے تو ان کا رخ دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ٹارگٹس کی جانب ہونا چاہیے، نہ کہ عوام پر دباؤ ڈالنے، بھتہ وصول کرنے اور علاقے میں اپنی الگ رٹ قائم کرنے کی کوششوں کی طرف ہو ، یہاں تشویش کی بات یہ ہے کہ خبروں کے مطابق ان عناصر کے روابط دہشت گرد گروہوں تک بھی ہیں جو کہ بنوں سمیت دیگر حساس علاقوں میں بھی سرگرم رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج لکی مروت ایک عجیب بے یقینی، خوف اور بدامنی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ان عناصر کی وجہ سے دہشت گردوں کو قانون نافذ کرنے والے ہر ادارے کی کاروائی کی خبر پہلے ہی مل جاتی ہے جس سے قیمتی جانی نقصان ہوتا ہے ، یہ عناصر ریاست کے اوپر اپنی ایک الگ اسٹیٹ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو نہ صرف تشویشناک بلکہ خطرناک بھی ہے اور ریاست اس قسم کی سرگرمیوں کی اجازت ہر گز نہیں دے گی۔

صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ریاستی تنخواہوں پر پلنے والے اس شتر بے مہار مافیا کو لگام ڈالی جائے اور محکمانہ کارروائی کر کر قوائد و ضوابط کی پابندی عائد کی جائے۔

Scroll to Top