اسلام آباد : پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (ICT-PEIRA) نے طلبہ کے تحفظ، والدین کے حقوق اور تعلیمی اداروں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم اور سخت فیصلے کر لیے ہیں۔
چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاح کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن چلنے والے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ایسے اداروں کے خلاف جرمانے، چھاپے اور سیلنگ سمیت اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ یہ کارروائیاں ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کی جائیں گی۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی نجی تعلیمی ادارہ ایک ماہ سے زائد پیشگی فیس وصول نہیں کر سکے گا اور فیس صرف ماہانہ بنیادوں پر ہی لی جائے گی۔
اس کے علاوہ 12 ماہ کے منظور شدہ تعلیمی سیشن سے زائد فیس وصولی بھی ممنوع قرار دی گئی ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے اور فرانزک آڈٹ کیا جا سکے گا۔
طلبہ کی صحت کے تحفظ کے لیے اسکول بیگز کے وزن سے متعلق نئی پالیسی بھی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت بیگ کا وزن بچے کے جسمانی وزن کے 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا۔ اسکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری کتابوں میں کمی، بہتر ٹائم ٹیبل اور جہاں ممکن ہو لاکرز کی سہولت فراہم کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : پاک فوج کا شمالی وزیرستان میں فری میڈیکل کیمپ، سینکڑوں افراد مستفید
اتھارٹی نے والدین کی سہولت کے لیے خصوصی شکایات مرکز بھی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں غیر قانونی فیس وصولی اور دیگر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ طلبہ کی صحت، معیاری تعلیم اور والدین کے حقوق کا تحفظ ادارے کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی قسم کے استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ICT-PEIRA نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد میں تعلیمی نظام کو شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔





