انمول عرف پنکی کوعثمان بزدار کے دور میں پنجاب پولیس سےریلیف دیا گیا

پاکستان کے بڑے شہروں میں کوکین سپلائی کرنے والی مبینہ “کوکین کوئین” انمول عرف پنکی کے کیس میں ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دورِ حکومت میں انہیں ایک بڑی ریلیف ملی تھی۔

تحقیقات کے مطابق سال 2022 میں درج ہونے والی ایک ایف آئی آر کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب پولیس نے انمول عرف پنکی کو ان کے بھائی سمیت لاہور سے گرفتار کیا تھاتاہم انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کے دور میں مبینہ طور پر7 کروڑروپے رشوت دے کر خود کو بچایا۔

کراچی پولیس کی جانب سے انمول عرف پنکی کی گرفتاری اس وقت ملک بھر میں گرم موضوع بنی ہوئی ہےجنہیں ملک میں کوکین کی ایک بڑی سپلائیڈر قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس نے انہیں کراچی میں ایک خفیہ معلومات پر مبنی چھاپے کے دوران گرفتار کیا۔

کچھ رپورٹس کے مطابق ان کا تعلق قصور سے ہے اور ان کی عمر تقریباً 30 سال ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں انہیں “کوکین کوئین” کہا جا رہا ہے کیونکہ ان کے روابط مبینہ طور پر اعلیٰ درجے کے منشیات کے نیٹ ورکس، امیر اور ہائی پروفائل گاہکوں سے تھے۔

تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ ان کے گاہکوں میں طلبہ، سماجی اشرافیہ اور ڈیفنس و کلفٹن جیسے پوش علاقوں کے پارٹی سرکلز شامل تھے۔ پولیس کے مطابق وہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے تین بڑے شہروں میں آن لائن اور دیگر ذرائع سے کوکین اور مصنوعی منشیات سپلائی کرنے والا نیٹ ورک چلا رہی تھیں۔

گرفتاری کے وقت پولیس نے ان کے پاس سے کوکین، کیمیکلز، آئس (میتھامفیٹامائن)، کیٹامائن، اسلحہ اور منشیات تیار کرنے کا ایک مشتبہ موبائل سیٹ اپ بھی برآمد کیا۔

منشیات کی سپلائی کے طریقہ کار کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ پنکی نیٹ ورک سوشل میڈیا اور آن لائن آرڈرز کے ذریعے گاہکوں سے رابطہ کرتا تھا۔ منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین سمیت ایسے رائیڈرز کا استعمال کیا جاتا تھا تاکہ پولیس چیکنگ کے دوران شک سے بچا جا سکے۔

تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ منشیات کو عام ڈیلیوری پارسلز میں چھپایا جاتا تھا جنہیں کمپیوٹر کے پرزوں کے طور پر ظاہر کیا جاتا یا پھر پیزا اور برگر کے ڈبوں میں پیک کیا جاتا تھا۔

پولیس نے یہ بھی بتایا کہ یہ گروپ خریداروں میں اپنے برانڈ کا نام بنانے کے لیے پیکجوں پر “پنکی” اور “کوئین میڈم پنکی” جیسے خصوصی لیبل استعمال کرتا تھا۔

تفتیش کاروں کے مطابق یہ نیٹ ورک مختلف سطحوں پر کام کرتا تھا جہاں پنکی منشیات کی خریداری اور پیکجنگ کی نگرانی کرتی تھیں جبکہ دیگر ارکان فروخت اور ڈیلیوری کو سنبھالتے تھے۔ حکام کو شبہ ہے کہ منشیات ملک کے دیگر حصوں سے کراچی لائی جاتی تھیں۔

پولیس کے مطابق وہ کئی سالوں سے کراچی میں سرگرم تھیں اور منشیات کے متعدد مقدمات کے علاوہ قتل کے کیس میں بھی مطلوب تھیںاور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے میں انتہائی ماہر سمجھی جاتی تھیں۔

Scroll to Top