خیبرپختونخوا میں معدنی وسائل کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والی بااثر سیاسی شخصیات کے درمیان اختلافات اور مفادات کا ٹکراؤ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبے میں غیر قانونی مائننگ اور معدنیات کی اسمگلنگ کے معاملے پر پارٹی کے دو اہم گروہ ایک دوسرے کے سامنے آ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک جانب سہیل آفریدی کے بھائی نوید آفریدی اور عامر آفریدی کا گروپ متحرک ہے جبکہ دوسری جانب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، ان کے بھائی عاقب اللہ خان اور ان کے قریبی حلقے شامل ہیں۔
دونوں گروپوں کے درمیان معدنی وسائل پر اجارہ داری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے معاملے پر مفادات کا شدید ٹکراؤ چل رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان بااثر سیاسی حلقوں کی جانب سے مبینہ طور پر عوام کی توجہ ہٹانے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے خلاف بیانیہ استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ پسِ پردہ غیر قانونی مائننگ کا سلسلہ عروج پر ہے۔
اس سیاسی مداخلت کے نتیجے میں صوبائی انتظامیہ کو شدید دباؤ کا سامنا ہے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے یا قانون پر عمل درآمد کرانے والے افسران کے خلاف تادیبی کارروائیاں اور سفارشی تبادلے کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ صوابی میں تعینات خاتون اسسٹنٹ کمشنر علینہ شکیل نے سیاسی دباؤ اور سفارش کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے معدنیات کی اسمگلنگ میں ملوث ایک مشتبہ ٹرک کو روکا جس کے بعد اسد قیصر کے مبینہ سیاسی دباؤ پر خاتون افسر کا فوری تبادلہ کر دیا گیا۔ اس سے قبل صوابی کے ڈپٹی کمشنر نصراللہ کو بھی مبینہ طور پر سیاسی شخصیات کے احکامات نہ ماننے پر عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔
انتظامی افسران کے ان تبادلوں نے صوبے میں قانون کی بالادستی اور معدنیات مافیا کو حاصل سیاسی پشت پناہی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔





