ناسا کی نئی AI چپ جو خلائی جہازوں کو خودمختار بنائے گی

ناسا نے خلا میں بھیجے جانے والے مشنز کے لیے ایک نہایت طاقتور اور جدید کمپیوٹر چِپ تیار کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے جو مستقبل میں خلائی تحقیق کے انداز کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔

یہ چِپ ایک کمرشل پارٹنرشپ کے تحت تیار کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد خلائی جہازوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ موصول ہونے والے ڈیٹا پر زیادہ تیزی اور مؤثر طریقے سے عمل کر سکیں، حتیٰ کہ زمین سے دور رہتے ہوئے کچھ فیصلے خود مختاری سے بھی کر سکیں۔

ناسا کا ہائی پرفارمنس اسپیس فلائٹ کمپیوٹنگ پروجیکٹ بنیادی طور پر خلائی مشنز میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر سسٹمز کی صلاحیت بڑھانے پر مرکوز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل پر ٹیکس کا راز فاش، چیئرمین پی ٹی اے کا اہم بیان آگیا

اس وقت خلائی جہاز نسبتاً پرانے پروسیسرز پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ وہ سخت خلائی ماحول میں زیادہ قابلِ اعتماد اور دیرپا ہوتے ہیں، تاہم ان کی کارکردگی نئی نسل کے مشنز کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پاتی۔

ناسا کے مطابق مستقبل کے مشنز، خاص طور پر چاند اور مریخ تک کے سفر، خودکار نظاموں، تیز ڈیٹا پراسیسنگ اور سائنسی تحقیق کی رفتار بڑھانے کے لیے ایسے جدید پروسیسرز کے محتاج ہوں گے۔

Scroll to Top