سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران وہ شدید دباؤ کا شکار رہے اور جو اصلاحات وہ نافذ کرنا چاہتے تھے، وہ مکمل نہ ہو سکیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پراپرٹی ویلیوایشن ٹیبلز کی نظرثانی، تاجروں کی رجسٹریشن اور بینک ٹرانزیکشنز کو نظام سے منسلک کرنے جیسے اقدامات کرنا چاہتے تھے، تاہم یہ منصوبے عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔
شبر زیدی کے مطابق انہوں نے ایف بی آر میں 10 سے 15 ہزار غیر ضروری ملازمین کو فارغ کرنے کی تجویز دی تھی، لیکن اس پر عمل نہیں ہو سکا، ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں وہ کراچی واپس چلے گئے اور انہوں نے کبھی باضابطہ طور پر استعفیٰ نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتیں کیش اکانومی کم کرنے، ریئل اسٹیٹ کو منظم کرنے اور اسمگلنگ روکنے کے دعوے کرتی ہیں، مگر کچھ عرصے بعد وہی نظام کا حصہ بن جاتی ہیں یا بنا دی جاتی ہیں۔
شبری زیدی نے کہا پاکستان میں اصل مسئلہ نظامی ہے اور جب تک اسے مشین یا مضبوط ڈھانچے کے ذریعے نہ بدلا جائے، حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر متحرک، پشاور میں سمگل شدہ سگریٹ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن متوقع
سابق چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ ملک میں ٹیکس کلیکشن جی ڈی پی کے تناسب سے تقریباً 10 فیصد ہے، جو ناکافی ہے جبکہ معیشت کا حجم بڑھنے کے باوجود ٹیکس وصولی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو گرفتاری کے اختیارات نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ زیادہ اختیارات کرپشن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کاروباری برادری کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے اور صنعتی و تجارتی طبقے کے معاملات کو الگ انداز سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
شبر زیدی نے مزید کہا کہ معاشرے میں اصلاحات کی راہ اس لیے مشکل ہے کیونکہ موجودہ نظام سے فائدہ اٹھانے والے طبقے تبدیلی نہیں چاہتے۔





