خاموش سمندر بول اُٹھا! پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش، بڑی خوشخبری سامنے آگئی

خاموش سمندر بول اُٹھا! پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش، بڑی خوشخبری سامنے آگئی

پاکستان کے سمندری حدود میں تیل و گیس کی تلاش کا بڑا آغاز، توانائی کے نئے ذخائر دریافت ہونے کی امید

پاکستان کے سمندری حدود میں تیل اور گیس کی تلاش کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے بعد آن شور کے بعد آف شور وسائل کی دریافت کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی بڑی توانائی کمپنیاں جلد گہرے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا باضابطہ آغاز کریں گی۔ اس سلسلے میں پی پی ایل (پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ)، او جی ڈی سی ایل (آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ) اور دیگر شراکت دار ادارے مجموعی طور پر سمندر میں 8 مختلف مقامات پر ایکسپلوریشن سرگرمیاں انجام دیں گے۔

پی پی ایل کے خط کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے سمندری علاقوں میں مختلف بلاکس کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے، جہاں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کی جائے گی۔ کمپنی گھارو کریک اور کوچی کریک میں بطور آپریٹر کام کرے گی، جبکہ دیگر شراکت دار ادارے بن قاسم ساؤتھ، کے ٹی بندر اور بحرِ ضرار بلاکس میں سرگرم ہوں گے۔

اسی طرح آف شور ڈیپ سی اور سپٹ بندر بلاکس پر بھی مشترکہ بنیادوں پر تلاش کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ او جی ڈی سی ایل دو بلاکس میں بطور آپریٹر جبکہ چھ بلاکس میں شراکت داری کے تحت کام کرے گی۔

حکام کے مطابق اس اہم پیشرفت سے ملک میں توانائی کے نئے ذخائر دریافت ہونے کے امکانات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جو مستقبل میں توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

Scroll to Top