یورپی یونین نے نئے پناہ گزین اور مائیگریشن معاہدے پر عملدرآمد کا آغاز کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت جون 2026 سے رکن ممالک میں امیگریشن نظام میں نمایاں تبدیلیاں نافذ ہونا شروع ہو جائیں گی۔
بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق اس نئے معاہدے کا بنیادی مقصد پناہ گزینوں کے نظام کو زیادہ تیز، منظم اور مؤثر بنانا ہے تاکہ درخواستوں پر فیصلوں کا عمل جلد مکمل کیا جا سکے۔
نئے فریم ورک کے تحت یورپی سرحدوں پر داخل ہونے والے افراد کی سخت اسکریننگ لازمی قرار دی جائے گی، جس میں ابتدائی جانچ پڑتال، بائیومیٹرک تصدیق اور سکیورٹی ویریفکیشن شامل ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کی فوری نشاندہی کرنا بتایا جا رہا ہے۔
مزید یہ کہ پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں کے عمل کو بھی تیز کیا جائے گا تاکہ طویل عرصے سے زیر التوا کیسز کو کم کیا جا سکے اور اہل افراد کو جلد قانونی حیثیت فراہم کی جا سکے۔
معاہدے کا ایک اہم حصہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر یورپی شہریوں کی واپسی کے نظام کو مؤثر بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے نیا ریٹرن فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جبکہ یورپی یونین کی سطح پر “محفوظ ممالک” کی فہرست بھی تیار کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں تھانہ چمکنی پولیس نے رات گئے علاقے کو بڑی تباہی سے بچا لیا
نئے قواعد کے مطابق اگر کوئی شخص قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر یورپی ممالک میں رہائش پذیر پایا جاتا ہے تو اسے تیز تر طریقہ کار کے تحت واپس بھیجا جا سکے گا۔
حکام کے مطابق اس پورے نظام کا مقصد امیگریشن کو جدید خطوط پر استوار کرنا، غیر قانونی داخلے کو روکنا اور رکن ممالک پر بڑھتے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نیا معاہدہ یورپ کی امیگریشن پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے، تاہم بعض حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے حقیقی پناہ گزینوں کے لیے طریقہ کار مزید سخت ہو سکتا ہے۔
یہ نیا مائیگریشن فریم ورک جون 2026 سے مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔





