پشاورشہر میں جائیداد کی منتقلی کے عمل میں سست روی اور ای رجسٹریشن سسٹم میں پیچیدگیوں کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مبینہ طور پر پٹواریوں اور ٹاؤٹس کی جانب سے اضافی رقوم وصول کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جائیداد کی رجسٹریشن اور موقع کی تصاویر کی فراہمی کے عمل میں تاخیر کے باعث عوام کو مختلف مراحل میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر کی جانب سے مبینہ طور پر شہریوں سے غیر قانونی رقوم وصول کرنے کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کچہریوں کے اطراف میں موجود ٹاؤٹس مبینہ طور پر موقع کی تصاویر اور دیگر دستاویزات کے حصول کے لیے شہریوں سے بھاری رقوم طلب کرتے ہیں جبکہ بعض افراد پر دباؤ ڈالنے یا تاخیر کے ذریعے بلیک میلنگ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جائیداد کی رجسٹریشن کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کے باوجود انہیں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ انتظامی سطح پر فوری اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس صورتحال پر مؤثر اقدامات نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں جبکہ عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ نظام کو شفاف اور آسان بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ دیگر صوبوں میں ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن اور پٹواری نظام میں اصلاحات کے بعد عوام کو نسبتاً سہولت فراہم کی گئی ہے۔





