مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی اسٹریٹجک صورتحال نے پاکستان کو عالمی سفارت کاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جس کا اعتراف اب عالمی میڈیا بھی کھل کر کر رہا ہے۔
عرب دنیا کے معروف خبر رساں ادارے الجزیرہ نے اپنی خصوصی رپورٹ میں پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف کو “ہائی پروفائل بین الاقوامی رہنما” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین ایک بار پھر ایک اہم عالمی شخصیت کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، اور اس مرتبہ یہ اعزاز وزیراعظم پاکستان کو حاصل ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف جلد چین کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی چینی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں اسٹریٹجک شراکت داری، معاشی تعاون اور دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی بات چیت ہوگی، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی خصوصاً ایران جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششیں بھی ایجنڈے کا اہم حصہ ہوں گی۔
الجزیرہ نے یاد دلایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اس سے قبل ستمبر میں چین کے دورے پر گئے تھے، جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ہمراہ چین کی تاریخی فوجی پریڈ میں شرکت کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کو “ہر موسم کا دوست” قرار دیتے ہیں، تاہم موجودہ علاقائی حالات نے اس تعلق کو مزید اسٹریٹجک اہمیت دے دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، جہاں سے تیل اور گیس کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ ایران میں جاری جنگ اور خطے کی کشیدہ صورتحال نے توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث چین اب اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے قابلِ اعتماد علاقائی شراکت داروں کی طرف دیکھ رہا ہے، جن میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، ایران کے ساتھ طویل سرحد، خلیجی ممالک اور امریکا کے ساتھ تعلقات، اور حالیہ مہینوں میں سفارتی ثالثی کا کردار اسے خطے میں ایک اہم طاقت کے طور پر ابھار رہا ہے۔ چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر خطے میں جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ چین کی اسٹریٹجک مسابقت کے تناظر میں پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن اور علاقائی اثر و رسوخ کی کشمکش کے باعث اسلام آباد اور بیجنگ کے تعلقات دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
دورۂ چین کے دوران چینی صدر اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور سکیورٹی امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ پاکستان اپنی معاشی مشکلات کے پیش نظر چینی سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون میں اضافے کا خواہاں ہے۔
ذرائع کے مطابق دفاعی تعاون بھی مذاکرات کے اہم ایجنڈے میں شامل ہوگا، جس کے تحت میزائل سسٹمز، آبدوزیں اور جدید لڑاکا طیاروں کی فراہمی جیسے معاملات زیر غور آ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین پاکستان کو خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے ایک کلیدی شراکت دار سمجھتا ہے، جو توانائی سلامتی، ایران بحران، اور بھارت کے ساتھ طاقت کے توازن میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سفارتی منظرنامے میں بھی ایک اہم اور ابھرتا ہوا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں اس کی جغرافیائی، سیاسی اور اسٹریٹجک اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔





