صوبے میں سرکاری پرائمری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ پالیسی پر عملدرآمد کے بعد ہزاروں اساتذہ کی پوزیشن متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 4 ہزار اساتذہ سرپلس پول میں جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 2 ہزار پرائمری سکولوں کو آؤٹ سورسنگ منصوبے میں شامل کرنے کی تیاری جاری ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے محکمہ تعلیم کے اندر ایک خصوصی سیل قائم کرنے پر بھی کام ہو رہا ہے، جو اساتذہ کی تعیناتیوں، تبادلوں اور کوڈ پوزیشن سے متعلق امور کی نگرانی کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق متعدد سرکاری سکولوں میں طلبہ کی تعداد مسلسل کم رہی ہے، جبکہ بعض اداروں میں نرسری سے پانچویں جماعت تک داخل طلبہ کی تعداد انتہائی محدود ہونے کے باوجود اساتذہ کی تعیناتی جاری تھی، جس کے باعث تعلیمی کارکردگی میں خاطر خواہ بہتری سامنے نہیں آ سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جن سکولوں کو آؤٹ سورسنگ کے دائرے میں لایا جائے گا، وہاں تعینات اساتذہ کو دیگر سرکاری اداروں میں ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے یا انہیں سرپلس پول میں شامل کیا جائے گا تاکہ بعد ازاں انہیں ضرورت کے مطابق دوبارہ تعینات کیا جا سکے۔
محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق اس عمل کے دوران اساتذہ کی کوڈ پوزیشن تبدیل کرنے اور نئی تعیناتیوں کے انتظامی طریقہ کار پر بھی کام جاری ہے، جبکہ عید کے بعد اس پالیسی پر عملدرآمد مزید تیز کیے جانے کا امکان ہے۔





