وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری مصدق ملک نے بھارت کی جانب سے مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام دیرینہ بین الاقوامی معاہدوں خصوصاً سنہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں پائیدار ترقی کے لیے پانی سے متعلق بین الاقوامی دہائیِ عمل کی چوتھی عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی آبی تقسیم کے معاہدوں کو کمزور کرنے کی کوششیں زیریں دھارے کے ممالک کے حقوق کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔
مصدق ملک نے واضح کیا کہ آبی جارحیت کسی صورت قبول نہیں اور کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرے یا یکطرفہ طور پر بین الاقوامی معاہدوں کو معطل کر کے دوسرے ممالک کو ان کے قانونی آبی حقوق سے محروم کرے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سنہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کا احترام کرے اور بین الاقوامی ثالثی کے طریقہ کار کی پاسداری کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاہدے کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ دنیا بھر کے زیریں دھارے کے ممالک کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔
وفاقی وزیر نے عالمی سطح پر کثیرالجہتی تعاون میں کمی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ باہمی تعاون پر مبنی عالمی نظام تیزی سے یکطرفہ طرز عمل سے تبدیل ہو رہا ہے جس سے بالائی دھارے کے ممالک کمزور زیریں دھارے کے ممالک پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صاف پانی تک رسائی بنیادی انسانی حق ہے اور ترقی پذیر ممالک کے کسان اور دیہی آبادی پانی کی فراہمی میں تعطل سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
پاکستان کو درپیش موسمیاتی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک عالمی حدت سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ بار بار آنے والے سیلاب اور شدید موسمی واقعات نے انفراسٹرکچر، زرعی اراضی اور عوام کے روزگار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سپر فلڈز کی بڑھتی ہوئی شدت پاکستان کی معیشت پر دباؤ بڑھا رہی ہے اور زرعی پیداوار میں کمی سے غذائی تحفظ کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
کانفرنس کے دوران مصدق ملک نے گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان اور تاجکستان دونوں تقریباً 13 ہزار گلیشیئرز کے حامل ہیں، تاہم بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث دونوں ممالک تقریباً ایک ہزار گلیشیئرز کھو چکے ہیں۔
انہوں نے گلیشیئرز کی نگرانی، مشترکہ ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور جنگلی حیات کے تحفظ سمیت علاقائی موسمیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ سرحد پار آبی معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔





