عید الفطر کی تعطیلات کے دوران ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں مریضوں کا شدید رش دیکھنے میں آیا جہاں ڈاکٹرز، پیرامیڈکس اور دیگر طبی عملہ چوبیس گھنٹے اپنی ڈیوٹیوں پر مستعد رہا۔
ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے 26 سے 30 مئی 2026 کے دوران سامنے آنے والے ہنگامی مریضوں، داخلوں، پیتھالوجی و ریڈیالوجی ٹیسٹوں، سرجیکل آپریشنز اور نوزائیدہ بچوں کی پیدائش کے تمام تر اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ان پانچ دنوں کے دوران کل 12 ہزار 765 ہنگامی مریض ہسپتال لائے گئے، جبکہ 697 مریضوں کو مختلف وارڈز میں داخل کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ ہنگامی مریض 28 مئی کو ریکارڈ کیے گئے، جبکہ عید کے ایام میں ٹریفک حادثات، معمولی زخموں اور شدید زخمی یا گن شاٹ کے کیسز کی کل تعداد 27 سے 29 مئی کے دوران 350 رہی۔
رپورٹ کے مطابق تعطیلات کے دوران ہسپتال کی لیبارٹریوں اور تشخیصی شعبوں پر بھی شدید دباؤ رہا جہاں مجموعی طور پر 17 ہزار 486 پیتھالوجی ٹیسٹ اور 2 ہزار 659 ریڈیالوجی اسٹڈیز کی گئیں۔
پیتھالوجی خدمات کے پانچ دنوں کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق بلڈ بینک میں 1 ہزار 189، اسپیشل کیمسٹری میں 195، ہیماٹولوجی میں 2 ہزار 825، ایڈوانس ہیماٹولوجی میں 1028، کیمیکل پیتھالوجی میں 6 ہزار 211، مائکرو بائیالوجی میں 2 ہزار 474 اور مولیکیولر بیالوجی کے 3 ٹیسٹ کیے گئے۔
ریڈیالوجی خدمات کے تحت 1 ہزار 245 ایکس رے، 676 الٹراساؤنڈ، 176 سی ٹی اسکین اور 1 ایم آر آئی کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرجیکل شعبے میں بھی تندہی سے کام جاری رہا جس کے دوران 48 سرجیکل و نیورو کیسز، 69 گائنی کیسز، 7 ای این ٹی و میکسلوفیشل، 9 آنکھوں کے آپریشنز، 27 آرتھوپیڈک کیسز اور 419 معمولی پروسیجرز کیے گئے۔
عید کے ان دنوں میں ہسپتال میں 140 نوزائیدہ بچوں کی پیدائش ہوئی جن میں سے طبی مسائل کے باعث 32 بچوں کو فوری طور پر نیونٹل کیئر یونٹ میں داخل کر کے علاج فراہم کیا گیا۔





