صومالی قزاقوں کے ہاتھوں آئل ٹینکر اغوا کو 40 دن مکمل، 10 پاکستانیوں سمیت یرغمالی تاحال آزاد نہ ہو سکے

اسلام آباد: صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود آئل ٹینکر “آنر 25” کے اغوا کو 40 روز مکمل ہو گئے ہیں، تاہم 10 پاکستانیوں سمیت تمام یرغمالی تاحال رہا نہیں ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق 21 اپریل کو صومالی قزاقوں نے آئل ٹینکر “آنر 25” پر حملہ کر کے اس کے 17 رکنی عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔ یرغمال بنائے گئے افراد میں 10 پاکستانی، 4 انڈونیشیائی، ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری شامل ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق صومالی حکومت آئل ٹینکر کے مالک کے ذریعے بحری قزاقوں سے مذاکرات میں مصروف ہے، تاہم اب تک ان مذاکرات میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 10 لاکھ ڈالر اور بعد ازاں 4 ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا، تاہم فریقین کے درمیان مذاکرات تاحال بے نتیجہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عوامی نیشنل پارٹی میں بڑا تنظیمی فیصلہ، اہم شخصیت کی بنیادی رکنیت ختم

سفارتی ذرائع کے مطابق آئل ٹینکر اس وقت صومالیہ کے ساحل کے قریب لنگر انداز ہے، جبکہ اس کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ صومالی حکومت نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کے لیے قزاقوں سے رابطے اور مذاکرات جاری رکھے گی۔ اس حوالے سے پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ بھی کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق صورتحال پر سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں، تاہم تاوان اور مذاکرات میں تعطل کے باعث یرغمالیوں کی رہائی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

Scroll to Top