ب فارم سے متعلق اہم خبر، نادرا کا نیا سسٹم متعارف

اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے بچوں کی پیدائش کے فوری اندراج اور قانونی شناخت کے عمل کو تیز اور آسان بنانے کے لیے “برتھ نوٹیفکیشن ٹول” متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اسپتال میں بچے کی پیدائش ہوتے ہی والدین کو فوری طور پر ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع موصول ہوگی۔

نادرا کے ترجمان سید شباہت علی نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں قانونی شناخت کا عمل پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے، تاہم پاکستان میں ماضی میں اس عمل میں تاخیر کا سامنا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے فیصلے سے فرق نہیں پڑتا، ڈیل کیلئے تیار ہوا تو بات ہوگی، ٹرمپ

انہوں نے کہا کہ اسی مسئلے کے حل کے لیے نادرا نے سرکاری اور نجی اسپتالوں کے تعاون سے نیا برتھ نوٹیفکیشن سسٹم متعارف کروایا ہے، جس کے تحت بچے کی پیدائش کے فوری بعد والدین کے موبائل فون پر ایس ایم ایس موصول ہوگا، جو بعد ازاں یونین کونسل میں پیدائش کے اندراج میں معاون ثابت ہوگا۔

ترجمان کے مطابق بچے کی قانونی رجسٹریشن کا پہلا مرحلہ یونین کونسل سے برتھ سرٹیفکیٹ کا اجرا ہے، جو تمام سرکاری ریکارڈز اور آئندہ دستاویزات کے لیے لازمی تصور کیا جاتا ہے۔

والدین اپنے شناختی کارڈ اور اسپتال کی پیدائشی پرچی یا برتھ نوٹیفکیشن ایس ایم ایس کے ذریعے یہ عمل مکمل کر سکیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ اور پنجاب کے شہری “پاک آئیڈینٹیٹی” ایپ کے ذریعے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں اس نظام کی مرحلہ وار توسیع جاری ہے، اور خیبرپختونخوا میں اس کی اجازت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

نادرا حکام کے مطابق یونین کونسل میں رجسٹریشن کے بعد بچے کا چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (سی آر سی) یا عام زبان میں “ب فارم” جاری کیا جاتا ہے، جو بعد کی تمام سرکاری دستاویزات کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ، پی ڈی ایم اے کا ہائی الرٹ

ترجمان نے وضاحت کی کہ تین سال سے کم عمر بچوں کے لیے نادرا سینٹر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ تین سال سے زائد عمر کے بچوں کے لیے تصویر اور بعد ازاں بائیومیٹرک معلومات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سی آر سی کو مختلف مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کے مطابق تین سال سے کم عمر بچوں کے سی آر سی کی مدت تین سال ہوگی، دس سال کی عمر کے بعد بائیومیٹرک تصدیق لازمی قرار دی جائے گی، جبکہ 18 سال کی عمر مکمل ہونے پر سی آر سی ختم ہو جائے گا اور قومی شناختی کارڈ کا اجرا ہوگا۔

نادرا کے مطابق “جووینائل کارڈ” دراصل ب فارم کی کارڈ شکل ہے، جسے تعلیمی اداروں اور دیگر اداروں کی ضرورت کے مطابق متعارف کرایا گیا ہے، اور اس کی قانونی حیثیت سی آر سی یا ب فارم کے برابر ہے۔

ب فارم کے حصول کے لیے والدین کو پہلے یونین کونسل سے پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا، اس کے بعد اصل شناختی کارڈز اور بچے کے ہمراہ قریبی نادرا سینٹر جانا ہوگا، تاہم اس سہولت کے لیے نادرا کی “پاک آئی ڈی” موبائل ایپ کے ذریعے آن لائن درخواست بھی دی جا سکتی ہے۔

ترجمان نادرا نے شہریوں کو ہدایت کی کہ سی آر سی اور پاک آئی ڈی ایپ کے حوالے سے مزید رہنمائی کے لیے نادرا کے آفیشل یوٹیوب چینل پر موجود ویڈیوز سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

Scroll to Top