محمد عباس
ضلع باجوڑ کے صحافی شہید ڈاکٹر نور حکیم خان کی 19ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔
اس سلسلے میں باجوڑ پریس کلب خار میں ایک سادہ مگر باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صحافیوں، ادبی شخصیات، سماجی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہید صحافی کے بھائی اور سینئر صحافی فضل حکیم خان نے ڈاکٹر نور حکیم خان کی زندگی، تعلیمی سفر، کھیلوں سے وابستگی اور صحافتی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نور حکیم خان نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں دیانت داری، جرات اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ انجام دیں اور ہمیشہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر نور حکیم خان کی صحافتی خدمات اور قربانیوں کے اعتراف میں انہیں بعد از وفات صدارتی ایوارڈ دیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ شہید صحافی کے اہلِ خانہ کو وہ تمام مراعات اور سہولیات فراہم کی جائیں جو دیگر شہید صحافیوں کے خاندانوں کو حاصل ہیں۔
سینئر صحافی محمد سلیم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر نور حکیم خان کی صحافتی خدمات اور قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے شہید کے بچوں اور خاندان کے لیے خصوصی سرکاری معاونت اور مراعات کی فراہمی پر زور دیا۔
معروف شاعر، صحافی اور ادبی شخصیت نظیر گل نادان نے کہا کہ ڈاکٹر نور حکیم خان نہ صرف ایک متحرک صحافی تھے بلکہ مقامی سطح پر تنازعات کے پرامن حل اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی شخصیت بردباری، معاملہ فہمی اور امن پسندی کی عملی مثال تھی۔
تقریب سے مولانا محمد یونس، عرفان اللہ جان، طاہر خان درانی، حنیف اللہ جان اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور شہید صحافی کی صحافتی، سماجی اور انسانی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مقررین نے متفقہ طور پر ڈاکٹر نور حکیم خان کے لیے صدارتی امتیازی ایوارڈ دینے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : بلوچستان دھماکہ! ایک صحافی اپنے خاندان سمیت شہید، علاقہ سوگ میں ڈوب گیا
یاد رہے کہ شہید صحافی ڈاکٹر نور حکیم خان، دو جون 2007 کو سلارزئی میں ایک جرگے کے کوریج سے واپسی پر راستے میں بم دھماکے میں شہید ہوئے تھے۔
تقریب میں باجوڑ پریس کلب کے ممبران سید بادشاہ، محمد بلال یاسر، سلیم اللہ، احسان اللہ، سجاد کاروان اور دیگر بھی موجود تھے۔





