اے این پی کا مذہبی بنیادوں پر سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلانے والے شخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے پارٹی قیادت اور کارکنان کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر چلائی جانے والی مبینہ نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم میں ملوث شخص کے خلاف کارروائی کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، آئی جی خیبر پختونخوا اور سیکرٹری داخلہ خیبر پختونخوا کو باضابطہ درخواستیں جمع کرا دیں۔

میاں افتخار حسین نے اپنے بیان اور درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ایک شخص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مختلف واٹس ایپ گروپس کے ذریعے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت اور کارکنان کو بے بنیاد طور پر قادیانی/احمدی قرار دے رہا ہے، جس کا مقصد عوامی مذہبی جذبات کو بھڑکانا اور پارٹی کے خلاف نفرت پیدا کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد کرنے والی جماعت ہے، تاہم موجودہ حساس حالات میں کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کے کارکنان کو مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنانا نہایت خطرناک عمل ہے، جو نہ صرف ان کی جان و مال کو خطرے میں ڈال سکتا ہے بلکہ معاشرے میں نفرت، تقسیم اور تشدد کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔

اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ جھوٹے اور گمراہ کن الزامات کے ذریعے پارٹی اراکین کی مذہبی شناخت کو متنازع بنانے کی کوشش ایک قبیح فعل ہے۔ ان کے مطابق اس قسم کی مہمات مختلف طبقات کے درمیان بداعتمادی اور نفرت کو ہوا دے کر امن عامہ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں اپنی قیادت سمیت ایک ہزار سے زائد کارکنان کی قربانیاں دے چکی ہے، جبکہ پارٹی قیادت پہلے ہی مسلسل سیکیورٹی خطرات کا سامنا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کو 41 رنز سے شکست، آسٹریلیا نے ون ڈے سیریز 1-1 سے برابر کردی

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ الزامات نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی جانوں کو مزید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور اس قسم کا طرز عمل ممکنہ تشدد کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے این سی سی آئی اے، آئی جی خیبر پختونخوا اور سیکرٹری داخلہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور نفرت انگیز مواد پھیلانے، جھوٹے بیانیے تشکیل دینے اور عوامی امن کو نقصان پہنچانے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

درخواست میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ شہریوں کی جان، عزت، مذہبی جذبات اور امن عامہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایسے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top