خیبر پختونخوا کے بچوں کے ہاتھوں میں قلم کی بجائے بندوقیں، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس نے خیبر پختونخوا میں نئی نسل کی تربیت کے حوالے سے ایک گہرا سماجی اور فکری سوال کھڑا کر دیا ہے۔

وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کم عمر بچوں کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب کے بجائے بندوقیں تھمائی گئی ہیں جو صوبے کے مستقبل کے لیے ایک خطرناک سماجی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ مناظر معاشرے کے اس تاریک پہلو کو بے نقاب کرتے ہیں جہاں معصوم ذہنوں کو تعلیم اور شعور کے بجائے اسلحے اور تشدد کے ماحول کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کے مطابق بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کا ہونا محض ایک عام ویڈیو نہیں بلکہ یہ صوبے میں ایک گہرے فکری اور معاشرتی بحران کی نشاندہی ہے۔ اس سنگین صورتحال کی ذمہ داری صوبائی حکومت، والدین یا مجموعی طور پر معاشرے، کسی پر بھی عائد ہولیکن اس کے بھیانک نتائج کا خمیازہ آنے والے وقت میں پورے معاشرے کو ہی بھگتنا پڑے گا۔

بدقسمتی سے اس طرح کے منفی رجحانات کسی بھی ترقی پسند معاشرے کے لیے فالِ بد ثابت ہو سکتے ہیں۔ جس قوم میں بچوں کی فکری تربیت علم و دانش کے بجائے اسلحے کے سائے میں ہو، وہاں امن، پائیدار ترقی اور استحکام کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔

ویڈیو کے وائرل ہونے پر صارفین میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ بحیثیتِ مجموعی ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دینا چاہتے ہیں، قلم یا بندوق؟ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی بقا، ترقی اور خوشحالی ہمیشہ علم، شعور اور اعلیٰ تعلیم سے جڑی ہوتی ہے، نہ کہ اسلحے اورتشدد سے۔

Scroll to Top