ہارون شینواری
ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں سرکاری اسکولوں کے تعلیمی نظام کو اس وقت بڑا دھچکا لگا ہے جب محکمہ تعلیم نے 567 سے زائد پی ٹی سی (پیرنٹ ٹیچر کونسل) اساتذہ کی خدمات فوری طور پر ختم کر دیں۔
اس اچانک فیصلے کے بعد علاقے کے متعدد تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے جس سے طلبہ کی پڑھائی اور تدریسی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہونے کا سنگین خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
فارغ کیے گئے اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے مختلف سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کر کے تدریسی خلا کو پُر کر رہے تھے، اور اب ان کی برطرفی سے اسکولوں کا تعلیمی معیار بری طرح گر جائے گا۔
دوسری جانب محکمہ تعلیم ضلع خیبر کے حکام نے پوزیشن واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ تعیناتیاں مستقل نہیں بلکہ پی ٹی سی کے تحت عارضی بنیادوں پر صرف چار ماہ کے لیے پچیس ہزار روپے ماہانہ معاوضے پر کی گئی تھیں۔ اب چونکہ منصوبے کی مقررہ مدت مکمل ہو چکی ہے اس لیے ڈائریکٹوریٹ محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کی سرکاری ہدایات کے مطابق ان کی خدمات ختم کی گئی ہیں۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ اب گرمیوں کی تعطیلات شروع ہو رہی ہیں، اس لیے اسکول کھلنے کے بعد متعلقہ ادارے صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔ اس کے بعد یا تو موجودہ اساتذہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی جائے گی یا پھر ضرورت کے مطابق نئی تعیناتیوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری طرف علاقے کے والدین اور طلبہ نے حکومت اور محکمہ تعلیم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے مستقبل کو بچانے اور تعلیمی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد اسکول کھلتے ہی اساتذہ کی کمی کا مسئلہ حل ہو سکے۔





