عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات حارث خان نے صحافیوں کے خلاف نفرت انگیز رویے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے صحافی منظور حسین کے خلاف مردان بورڈ کی جانب سے جاری ہرجانے کے نوٹس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے “رائٹ ٹو انفارمیشن” کا قانون پاس کر کے عوام اور صحافی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکی ہے، جبکہ عملی سطح پر اس قانون پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔
حارث خان کا کہنا تھا کہ صحافی معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور وہ اپنے قلم کے ذریعے سچائی عوام تک پہنچاتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ دوستانہ اور باعزت رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جو قلم حق لکھتا ہے اسے دبانے کی ہر کوشش دراصل جمہوریت پر حملہ ہے۔ اے این پی ہمیشہ سے پریس کی آزادی، اظہارِ رائے اور آئینی حقوق کی محافظ رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ باچا خان کے فلسفے کے مطابق قلم کی طاقت تلوار سے زیادہ ہے، اسی لیے اے این پی صحافی برادری کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو دھمکانے، ہرجانے کے نوٹس جاری کرنے اور مبینہ انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے تاکہ صحافی آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کر سکیں اور عوام تک سچائی پہنچتی رہے۔





