ایمل ولی خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشتونوں کے مسائل کا حل تعلیم، شعور اور آئینی جدوجہد میں ہے، مسلح لشکر سازی کی مخالفت کرتے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پشتونوں کے مسائل کبھی بھی لشکر سازی یا مسلح گروہوں کی تشکیل سے حل نہیں ہوں گے، بلکہ ان کا پائیدار حل پرامن آئینی جدوجہد، جدید تعلیم اور نالج اکانومی میں پوشیدہ ہے۔
اپنے ایک باضابطہ بیان میں سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا اصولی مؤقف ہے کہ تمام سیاسی اور جمہوری جدوجہد ریاست کے آئینی دائرہ کار کے اندر ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے مقابلے میں طاقت کے استعمال یا لشکر کشی سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں طاقت کے استعمال اور اسلحہ رکھنے کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق غیر ریاستی مسلح گروہوں اور نجی سطح پر بندوق اٹھانے کے رجحان نے ملک اور خصوصاً پشتون علاقوں کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے، اس لیے ایسی تمام کوششوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ حالات بدلنے کے نام پر بنائے جانے والے لشکر سب سے زیادہ نقصان خود پشتونوں کو پہنچاتے ہیں۔ اس سے کاروبار، روزگار، معمولاتِ زندگی اور معاشرتی استحکام متاثر ہوتا ہے، جبکہ قوم کی فکری اور سماجی بنیادیں بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں کے لیے جدید تعلیم اور ہنرمندی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں ترقی کا راستہ نالج اکانومی سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو جدید علوم اور مہارتوں سے آراستہ نہ کیا گیا تو قوم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتونوں کا مستقبل جذباتیت اور اسلحے میں نہیں بلکہ شعور، تعلیم اور ہنر مندی میں ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی کا کسی بھی مسلح یا علیحدگی پسند تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں پشتونوں کی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کا فوری اور مؤثر تدارک کیا جائے
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ عوام کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ جب شہری ٹیکس ادا کرتے ہیں اور اپنی قانونی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں تو ریاست پر لازم ہے کہ وہ ان کی جان، مال اور روزگار کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں پشتونوں کو پرامن بقائے باہمی، جدید تعلیم، معاشی ترقی اور ریاستی رٹ کے تحت مکمل تحفظ کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔





