گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے بعد گنتی کا عمل جاری ہے اور ابتدائی رجحانات نے خطے کی سیاست میں ایک نیا رخ متعین کر دیا ہے۔
اس صورتحال پر سینیئر سیاسی مبصرین اور انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات نے سوشل میڈیا، بالخصوص بیرونِ ملک مقیم پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حامی یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز کے بڑے بڑے دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابات سے قبل بیرونِ ملک مقیم پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز اور ڈالرز کے پجاریوں کی جانب سے یہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ تحریکِ انصاف ان انتخابات میں تاریخی کلین سوئیپ کرے گی تاہم زمینی حقائق اور بیلٹ باکس سے نکلنے والے رجحانات نے ان تمام ہوائی دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق انتخابی مہم کے دوران مختلف ممالک سے چلنے والے پی ٹی آئی کے حامی یوٹیوب چینلز اور ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر ایک منظم اور من گھڑت بیانیہ تیار کیا گیا تھا جس میں گلگت بلتستان کے عوام کی رائے کو تحریکِ انصاف کے حق میں یکطرفہ دکھانے کی ناکام کوشش کی جا رہی تھی۔
ماہرینِ سیاست نے انکشاف کیا کہ ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مسلسل یہ جھوٹا دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کا خطے سے مکمل خاتمہ ہو چکا ہے اور پولنگ کے دن صرف بلے کے حامی آزاد امیدوار ہی میدان ماریں گے۔
ماہرین کے مطابق ان یوٹیوبرز نے عوام کو یہ باور کرانے کی بھرپور کوشش کی تھی کہ تحریکِ انصاف کے بغیر کوئی دوسری جماعت سیٹ نہیں نکال سکے گی لیکن جیسے ہی پولنگ مکمل ہوئی اور گنتی کے بعد غیر حتمی رجحانات آنا شروع ہوئے تو سوشل میڈیا پر بنایا گیا یہ خیالی محل ریت کی دیوار ثابت ہوا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے باشعور اور غیور عوام نے یوٹیوب اور ٹک ٹاک کے ورچوئل پروپیگنڈے کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے زمینی اور عملی سیاست کو ترجیح دی۔
تجزیہ کاروں نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابی رجحانات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر صرف انٹرنیٹ کی دنیا میں ڈالرز کے لیے بنائے گئے بیانیے اور زمینی حقائق میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ عوام نے موبائل اسکرینز پر چلنے والے فتنہ پروپیگنڈے کے بجائے اپنے خطے کی ترقی، وفاق کی گڈ گورننس اور حقیقی قیادت کو ووٹ دیا ہے، جس کے بعد اب اوورسیز کی بورڈ واریئرز اور جھوٹ کی دکان چلانے والے یوٹیوبرز کو شدید ہزیمت اور خاموشی کا سامنا ہے۔





