قاتلانہ حملے کے بعد سوات میں شدید کشیدگی، مظاہرین کا لاشیں سڑک پر رکھ کر دھرنا

قاتلانہ حملے کے بعد سوات میں شدید کشیدگی، مظاہرین کا لاشیں سڑک پر رکھ کر دھرنا

تحصیل مٹہ کے علاقے شکردرہ میں گجر برداری پر قاتلانہ حملے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے، جبکہ مظاہرین نے لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کر دیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے معروف ٹرانسپورٹر افضل خان گجر کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حملے میں راکٹ لانچر فائر کیا گیا جس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

واقعے میں افضل خان گجر زخمی ہو گئے، تاہم ان کا جواں سال بیٹا بہرام خان گجر اور بھتیجا موقع پر جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک سیکیورٹی گارڈ گاڑی میں آگ لگنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔

حملے کے بعد افضل خان گجر کی جانب سے جوابی فائرنگ بھی کی گئی، تاہم حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب واقعے کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین نے لاشوں کو سڑک پر رکھ کر مٹہ مینگورہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ احتجاجی مظاہرین نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

حکام کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

Scroll to Top