واشنگٹن: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران سے ممکنہ معاہدے کا فریق نہیں، تاہم وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ایران سے متعلق مجوزہ مفاہمتی یادداشت اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
The Prime Minister’s Office:
President Trump spoke this evening with Prime Minister Netanyahu regarding the emerging memorandum of understanding (MOU) with Iran to enter into negotiations.Even though Israel is not a party to the memorandum of understanding, the Prime Minister…
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) June 11, 2026
بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے، میزائل پروگرام کی حد بندی اور خطے میں سرگرم ایرانی پراکسیز کی حمایت روکنے جیسے نکات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امن کی کوششوں میں پاکستان کا کردار قابلِ ستائش ہے، امریکی صدر
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہیں اور جلد دستخط متوقع ہیں۔ ان کے مطابق دستخط کی تقریب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شریک ہوں گے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ طے پانے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اور اس پیش رفت سے خطے میں خوش آئند ماحول پیدا ہوگا۔ ان کے مطابق “پورا مشرق وسطیٰ اس پیش رفت سے خوش ہے”۔
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں مختلف علاقائی اور عالمی فریقین بھی بالواسطہ طور پر شامل ہیں، جبکہ معاہدے کی حتمی تفصیلات کو جلد حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔





