عوام کو ریلیف ملے گا یا نیا بوجھ؟ وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا

آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے 17 ہزار 500 ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ تقریر کے دوران مالی سال کے اہم معاشی اہداف اور حکومتی ترجیحات کا اعلان کریں گے۔

بجٹ پیش کیے جانے سے قبل وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس بھی آج طلب کر لیا گیا ہے جس میں بجٹ تجاویز کی منظوری دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2 ہزار 767 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئندہ مالی سال کے لیے شرح نمو 4 فیصد اور مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔

قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ دفاعی بجٹ تقریباً 3 ہزار ارب روپے رکھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3 ہزار 669 ارب روپے اور وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے دوران 20 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف بھی مقرر کرے گی۔ تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک ٹیکس ریلیف ملنے کا امکان ہے جبکہ انکم ٹیکس سلیب 6 سے بڑھا کر 8 کرنے اور بعض آمدنی کے درجات پر ٹیکس شرح میں کمی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے قومی اقتصادی سروے 26-2025 جاری کردیا

بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس ریلیف پیکیج اور مقامی الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے لیے مراعات کی تجاویز زیر غور ہیں جبکہ روایتی ایندھن پر چلنے والی بڑی گاڑیوں پر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں کمی اور جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کم کرنے کی تجاویز بھی بجٹ کا حصہ بن سکتی ہیں۔

برآمد کنندگان کے لیے ایک فیصد ایکسپورٹ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سولر پینلز پر 10 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق سٹاک مارکیٹ پر موجودہ ٹیکس نظام برقرار رہنے کی توقع ہے، آئندہ مالی سال کے لیے درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر اور برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر تجویز کیا گیا ہے جبکہ تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

Scroll to Top