حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت مختلف انکم سلیبز پر ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کے ساتھ ساتھ سرچارج بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نئی مراعات کے مطابق سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے کمانے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 23 سے کم کر کے 20 فیصد، اور 32 سے 41 لاکھ روپے کمانے والوں کا ٹیکس 30 سے کم کر کے 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح سالانہ 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 35 سے کم کر کے 29 فیصد، جبکہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ کمانے والوں پر ٹیکس 35 سے کم کر کے 32 فیصد کر دیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ کا کل حجم 18 ہزار 771 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جس میں ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے اور گراس ریونیو کا تخمینہ 20 ہزار 600 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 5 ہزار 336 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔
نئے مالی سال میں صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپے منتقل کیے جائیں گے، جس کے بعد وفاقی حکومت کی خالص آمدن کا تخمینہ 11 ہزار 751 ارب روپے رہے گا
۔ حکومت جاری اخراجات پر 17 ہزار 495 ارب روپے خرچ کرے گی، جس میں سے سب سے زیادہ یعنی 8 ہزار 54 ارب روپے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے،وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا بجٹ اجلاس سے خطاب
دستاویزات کے مطابق دفاعی بجٹ کے لیے 3 ہزار ارب روپے اور ترقیاتی منصوبوں (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پنشن کی ادائیگی کے لیے 1 ہزار 169 ارب، سول حکومت کے اخراجات کے لیے 1 ہزار 71 ارب، جبکہ ہنگامی اقدامات کے لیے 430 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
بجٹ خسارے اور دیگر اخراجات کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو اندرونی ذرائع سے 2034 ارب اور بیرونی ذرائع سے 813 ارب روپے کا قرض ملے گا، جبکہ ٹی بلز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور سکوک بانڈز سے 4012 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے۔ مزید برآں، سرکاری اداروں کی نجکاری سے 161 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔





