نیوزی لینڈ کرکٹ کے سنہری دور کی ایک اور یادگار داستان اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔
کیوی ٹیم کے لیجنڈری بلے باز، سابق کپتان اور جدید دور کے عظیم ترین کرکٹرز میں شمار ہونے والے کین ولیمسن نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
35 سالہ ولیمسن نے فوری طور پر ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ساتھ ہی ان کے شاندار 16 سالہ بین الاقوامی کیریئر کا باب بند ہو گیا، اس اعلان کے بعد وہ انگلینڈ کے خلاف جاری تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے بقیہ دو میچز میں بھی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔
کین ولیمسن نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے اس فیصلے پر غور کر رہے تھے تاہم حالیہ دنوں میں انہیں محسوس ہوا کہ بین الاقوامی کرکٹ سے رخصت ہونے کا یہی موزوں وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی نمائندگی ان کے لیے ہمیشہ باعثِ فخر رہی اور انہوں نے ہر میچ میں ملک کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی۔
کین ولیمسن اپنے کیریئر کا اختتام نیوزی لینڈ کی ٹیسٹ تاریخ کے کامیاب ترین بلے باز کے طور پر کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرکٹ ورلڈ کپ کی مجوزہ تاریخیں اوردیگر تفصیلات سامنے آگئیں
انہوں نے 110 ٹیسٹ میچوں میں 9515 رنز اسکور کیے جبکہ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں 7256 اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 2575 رنز اپنے نام کیے۔
ان کے کیریئر کی سب سے یادگار کامیابی 2021 میں نیوزی لینڈ کو پہلی مرتبہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا تاج دلوانا تھی۔ بطور کپتان بھی انہوں نے کیوی ٹیم کو متعدد عالمی مقابلوں کے فائنلز اور سیمی فائنلز تک پہنچا کر دنیا بھر میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ روب والٹر نے کین ولیمسن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایک عظیم کھلاڑی ہی نہیں بلکہ ایک مثالی قائد اور کرکٹ کے بہترین سفیر بھی رہے ہیں۔
ولیمسن کی خدمات، کردار اور کامیابیاں آنے والے برسوں تک نیوزی لینڈ کرکٹ کا قابلِ فخر حصہ رہیں گی۔
کین ولیمسن کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ عالمی کرکٹ ایک ایسے عظیم بلے باز سے محروم ہو گئی ہے جس نے اپنی شاندار بیٹنگ، غیر معمولی قیادت اور بے مثال اسپورٹس مین شپ سے لاکھوں شائقین کے دل جیتے۔





