سی ایم ہاؤس کے پروٹوکول آفیسر کی گاڑی پر کسٹمز اور محکمہ ایکسائز آمنے سامنے

شاہد جان

پشاور: پشاور کے مصروف یونیورسٹی روڈ پر وزیراعلیٰ ہاؤس کے پروٹوکول آفیسر کے زیر استعمال ایک مبینہ نان کسٹم پیڈ (NCP) گاڑی کو تحویل میں لینے کے معاملے پر کسٹمز انفورسمنٹ اور محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے درمیان تنازع کھل کر سامنے آ گیا۔

دونوں محکموں کے اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی اور کشیدگی کے باعث کچھ دیر کے لیے یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی، جبکہ بعد ازاں پولیس نے گاڑی کو قانونی کارروائی مکمل ہونے تک ٹاؤن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

کسٹمز حکام کے مطابق کسٹمز انفورسمنٹ پشاور نے کارروائی کے دوران محکمہ ایکسائز پشاور کی مبینہ جعلی الاٹمنٹ پر چلنے والی ایک نان کسٹم پیڈ گاڑی کو اپنی تحویل میں لیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے وزیر فخرِ جہاں موقع پر پہنچے اور گاڑی کو چھوڑنے کی درخواست کی، جبکہ بعد ازاں محکمہ ایکسائز کے افسران بھی گاڑی کی رہائی کے لیے موقع پر پہنچ گئے۔ تاہم کسٹمز اہلکاروں نے گاڑی ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور قانونی کارروائی جاری رکھی۔

دوسری جانب وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول فخرِ جہاں نے کسٹمز اہلکاروں کے ساتھ زور زبردستی یا دباؤ ڈالنے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے پختون ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اتفاقاً خریداری کی غرض سے یونیورسٹی روڈ پر موجود تھے۔ شاپنگ مال سے باہر نکلنے پر انہیں ٹریفک جام کا سامنا ہوا، جس پر معلوم ہوا کہ کسٹمز اہلکاروں اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے پروٹوکول آفیسر کے درمیان گاڑی کے معاملے پر تنازع جاری ہے۔

فخرِ جہاں کے مطابق انہوں نے کسٹمز اہلکاروں سے صرف یہ درخواست کی کہ گاڑی میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے پروٹوکول آفیسر کے ساتھ خواتین بھی موجود ہیں، اس لیے گاڑی کو جانے دیا جائے اور قانونی معاملہ بعد ازاں متعلقہ محکموں کے درمیان خط و کتابت کے ذریعے حل کر لیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا پولیس میں اعلیٰ سطح پر تقرر و تبادلے، نوٹیفکیشن جاری

ان کا کہنا تھا کہ کسٹمز اہلکاروں نے ان کی درخواست قبول نہیں کی، جس کے بعد وہ موقع سے روانہ ہو گئے۔

وزیر ایکسائز نے واضح کیا کہ انہوں نے نہ کسی قسم کی زور زبردستی کی اور نہ ہی گاڑی چھڑوانے کے لیے کوئی غیر قانونی اقدام اٹھایا۔

ان کے مطابق دونوں محکموں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کے بعد پولیس نے گاڑی کو ٹاؤن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا، جہاں قانونی کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔

ادھر کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ گاڑی کے حوالے سے قانونی کارروائی قانون اور ضابطے کے مطابق جاری ہے اور معاملے کا فیصلہ بھی قانونی طریقہ کار کے تحت ہی کیا جائے گا۔

Scroll to Top